پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج (ہفتہ) منائی گئی۔ گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام تو نہیں ہوا لیکن قرآن خوانی ہوئی اور لوگوں نے از خود مزار پر حاضری بھی دی اور دعائے مغفرت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا اور لکھا جاتا رہے گا۔ وہ بڑی شخصیت اور انسانی خوبیوں کے حامل تھے، ان کے چاہنے والوں نے ان کوٹوٹ کر چاہا ان کے لئے خود سوزی کرکے جانیں دیں۔ قلعہ کی صعوبتیں برداشت کیں اور کوڑے بھی کھائے۔ ذوالفقار علی بھٹو خود اپنے نامزد چیف آف آرمی سٹاف کے ہاتھوں تختہ دار پر جھول گئے، ان کے آخری وقت کے حوالے سے بھی بہت داستانیں ہیں اور ان کی برداشت کے قصے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو گرفتار تھے ان کے خلاف مولوی مشتاق کی سربراہی میں قتل کا مقدمہ چل رہا تھا، اس سلسلے میں یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ اس مقدمہ میں دوبار گرفتار ہوئے پہلی مرتبہ پکڑے گئے تو لاہور ہائیکورٹ سے ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد ان کے پروگرام میں پشاور روانگی شامل تھی اور وہ ہوائی جہاز سے گئے، میں اور بعض دوسرے رپورٹرلاہور ایئرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں منتظر تھے کہ ان سے بات ہو سکے تاہم جب بھٹو آئے تو انہوں نے وی آئی پی لاؤنج کی بجائے پسنجر لاؤنج کی طرف سے بورڈنگ کا فیصلہ کیا اور ادھر چلے گئے۔ میرے ساتھی جلدی سے اس طرف بھاگے، میں نے ہمت کی اور اسی لاؤنج سے باہر نکل کر پیچھے کی طرف سے پسنجر لاؤنج میں آ گیا۔
بھٹو صاحب وہاں عام مسافروں میں بیٹھے، ان کے ایک طرف ملک غلام مصطفےٰ کھر اور دوسری طرف محمد حنیف رامے تھے وہ مجھے دیکھ کر تھوڑا حیران ضرور ہوئے تاہم میرے اور بھٹو صاحب کے درمیان گفتگو میں حائل نہ ہوئے۔ بات مختصر رہی کہ پروازکا وقت ہو گیا تھا انہوں نے اپنے خلاف الزام کو مکمل طور پر رد کیا اور میرے استفسار پر بتایا کہ الیکشن ہوئے تو پیپلزپارٹی حصہ لے گی اور پھر سے بھاری اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آئے گی، لیکن کاتب تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ الیکشن نہ ہونا تھے نہ ہوئے۔ البتہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے لئے تمام قانون و قواعد پس پشت ڈال کر براہ راست سماعت ہائی کورٹ میں کی گئی۔ میں نے قریباً سات سال کورٹس رپورٹنگ بھی کی اور مقدمہ قتل کی سماعت کے طریق اور قواعد سے واقف ہوں۔ اول سماعت مجسٹریٹ کی عدالت میں ہوتی جو مقدمہ قتل سیشن سپرد کرتے اور سماعت (ٹرائل) سیشن عدالت میں ہونا لازم تھی، جہاں گواہ پیش کئے جاتے اور ان پر جرح بھی ہوتی تھی، لیکن بھٹو دشمنی میں اس وقت کے چیف جسٹس مولوی مشتاق اس قدر آگے بڑھ گئے کہ ٹرائل کورٹ (سیشن عدالت) میں سماعت ہی نہ ہونے دی اور یہ مقدمہ قتل براہ راست ہائی کورٹ میں منتقل کرکے اپنی سربراہی میں سماعت (ٹرائل) شروع کر دی، قواعد کی رو سے یہ بھی ایک غیر معمولی عمل تھا جس کی مثال عدالتی تاریخ میں نہیں تھی۔ مقدمہ کی سماعت اور مولوی مشتاق کا رویہ اور عمل تاریخ کا حصہ ہے۔ بھٹو سے ابتداء ہی میں اپیل کے ایک عمل کا حق چھین لیا گیا اگر سماعت سیشن عدالت میں ہوتی تو ممکن ہے کہ یہاں سے وہ بری ہو جاتے اور استغاثہ کو اپیل کرنا پڑتی۔ بھٹو نے یہاں بھی مقابلہ کیا۔
اس سلسلے میں آج میں دو باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ایک تو یہ کہ جب یہ مقدمہ قتل درج ہوا تو ایف آئی آر سربمہر کر دی گئی تھی۔ بھٹو برسراقتدار تھے لاہور میں ایس۔ ایس پی سردار وکیل تھے ان سے ہمارے تعلقات رہے یہ بھی دلچسپ تھے۔ ان سے ہلکی پھلکی ہوتی رہتی تھی کہ ہم رپورٹر اور وہ افسر تھے۔ بھٹو صاحب کے مقدمہ قتل کے اختتام اور 4اپریل کے روح فرسا حادثہ کے کچھ عرصہ بعد سردار وکیل خان نے تاسف بھرے لہجے میں بتایا تھا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے وقت لے کر ملاقات کی اور تجویز کیا تھا کہ مقدمہ قتل کی ایف آئی آر نکلوا کر تفتیش کرائیں اور اس کو انجام تک پہنچا دیں۔ بھٹو صاحب نے بڑے اعتماد سے جواب دیاکہ کوئی ضرورت نہیں، میں کوئی گناہ گار ہوں، میں نے کچھ نہیں کیا ہوا۔ سردار وکیل خان (مرحوم) کا کہنا تھا کہ مجھے بہت دکھ ہے کاش بھٹو میری بات مان لیتے کہ ایف آئی آر ناقص تھی، تفتیش میں خارج ہوجاتی تو بات ہی مختلف ہوتی۔
اس مقدمہ قتل کی غیر معمولی سماعت کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی چشم کشا اور مولوی مشتاق کے رویے کے شاہد تھے جواب بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اس مقدمہ قتل کے حوالے سے سارے کا سارا ذکر وعدہ معاف گواہ محمود مسعود کا ہی ہوتا ہے اور سزائے موت (پھانسی) کے حوالے سے بھی بھٹو ہی زیر بحث رہتے ہیں، کوئی ان چار ایف ایس ایف کے اہلکاروں کی بات نہیں کرتا جن کو زندگی (بریت) کی ضمانت دے کر اقرار جرم پر آمادہ کیا گیا۔ یہ سب بھی کیس کے ریکارڈ پر ہے کہ کس طرح اور کن محترم و مکرم ہستیوں نے ان اہلکاروں کے اہل خانہ کے توسط سے ان کو ایسا کرنے پر آمادہ کیا، ان چار اہلکاروں کو بھی سزائے موت دی گئی اور وہ پھانسی چڑھ گئے ان کا ذکر بوجوہ نہیں کیا جاتا کہ سازشی تھیوری کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہوتا ہے، نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں ذوالفقار علی بھٹو ہی نہیں،ایف۔ ایس۔ایف کے یہ چار اہلکار بھی پھانسی پر لٹکائے گئے تھے۔
اس مرحلے پر اگر پیپلزپارٹی کے پہلے منشورکا ذکر ہو جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس منشور میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پارٹی برسراقتدار آکر ملک کے 200بڑے قصبات کو مکمل طور پر بڑے شہروں میں تبدیل کرے گی۔ صنعتی اور تجارتی زون بھی بنیں گے اور رہائش گاہوں میں بھی اضافہ ہوگا اس حصے پر بوجوہ عمل نہ ہوا، اس کی کئی وجوہات ہیں جو باباء سوشلزم شیخ محمد رشید بتاتے رہتے تھے۔ غور کریں کہ منشور کے اس حصے پر عمل ہوتا تو آج ملک کی کیا حالت ہوتی کہ کراچی کی آبادی اور مسائل ہی توجہ کا مرکز رہتے ہیں، بھٹو صاحب بصیرت تھے لیکن بعض معاملات پر عمل نہ کرا سکے تھے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے کہ حوصلہ مند اور دلیر تھے جنہوں نے رحم کی اپیل سے بھی انکار کر دیا تھا۔

