جھنڈا اور ڈنڈا

پاکستان میں حکمرانوں، سرکاری افسروں اور بااثر شخصیات کے پروٹوکول کا معاملہ محض چند اضافی گاڑیوں، پولیس کے ہوٹروں یا سڑکوں پر ٹریفک روکنے تک محدود نہیں، یہ دراصل اس سوچ کی علامت ہے جس میں اقتدار اور اختیار رکھنے والا شخص خود کو عام شہری سے برتر سمجھنے لگتا ہے،یہی وجہ ہے کہ ایک طرف عوام سرکاری دفاتر میں جائز کام کے لیے دھکے کھاتے ، اسپتالوں میں دوائی اور ڈاکٹر کے لئے قطاروں میں کھڑے اور ٹریفک کے ہجوم میں گھنٹوں پھنسے نظر آتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کسی بااثر شخصیت کی آمد پر سڑکیں خالی کرا لی جاتی ہیں، ٹریفک روک دی جاتی ہے اور پولیس اہلکار ہٹو بچو کی صدائیں بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک میں عام شہری کی عزت، وقت اور سہولت کی اہمیت کب تسلیم کی جائے گی؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے 22 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی ترجیحی ہدایات اس پس منظر میں ایک قابلِ توجہ قدم ہیں، وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ کے ارکان، مشیروں، معاونینِ خصوصی، پارلیمانی سیکرٹریوں، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں، ارکانِ صوبائی اسمبلی، سرکاری افسروں یا کسی نجی فرد کے ساتھ مستقل بنیادوں پر پولیس اسکواڈ تعینات نہیں ہوگا، جب تک اس کے لیے باقاعدہ اور جائز اجازت موجود نہ ہو، اسی طرح کسی شخص کو مجاز ہونے کے بغیر اپنی گاڑی پر سرکاری پرچم یا فلیگ اسٹاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور غیر مجاز طور پر تعینات کیے گئے اسکواڈ واپس بلائیں،یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، اس کے ذریعے ریاستی اختیارات کو ان کی آئینی اور قانونی حدود میں رکھنا اور عوام کو یہ احساس دلانا ہونا چاہیے کہ اس ملک کے وسائل کسی خاندان، جماعت، عہدے دار یا حکمران کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔

جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں، قانون سازی کریں اور حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھیں، مگر ہمارے ہاں بعض منتخب نمائندے اقتدار میں آتے ہی اپنے منصب کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی اثرورسوخ بڑھانے کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں، سرکاری افسروں کو ذاتی ملازم کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تھانے اور پٹوار خانے میں اپنے آدمی کا کام نکلوانا سیاسی اثرورسوخ کی علامت سمجھا جاتا ہے اور پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ چلنا عزت و وقار کا پیمانہ بن جاتا ہے۔یہ رویہ صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں، بیوروکریسی میں بھی بعض افسر ایسے ہیں جو اپنے عہدے کو عوامی ذمہ داری کے بجائے سماجی برتری کا ذریعہ سمجھتے ہیں، دفتر میں شہریوں کو انتظار کرانا، ماتحت عملے سے غیر ضروری آداب و القاب کی توقع رکھنا اور سرکاری سہولتوں کو ذاتی آسائش کیلئےاستعمال کرنا اسی ذہنیت کی مختلف شکلیں ہیں،حالانکہ سرکاری ملازم کو انگریزی میں پبلک سرونٹ کہا جاتا ہے، یعنی عوام کا خدمت گزار، اس اصطلاح میں ریاستی نظام کی پوری روح موجود ہے، سرکاری افسر عوام پر احسان نہیں کرتا بلکہ اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے، اور منتخب نمائندہ کسی پر ذاتی مہربانی نہیں کرتا بلکہ عوام کے ووٹ سے ملنے والے اعتماد کا حق ادا کرتا ہے۔

پروٹوکول کلچر کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس کی قیمت عام شہری ادا کرتا ہے، جب کسی شخصیت کے گزرنے کیلئے سڑک بند کی جاتی ہے تو کسی مریض کو اسپتال پہنچنے میں تاخیر ہو تی ہے، کسی مزدور کی دیہاڑی ضائع ہو تی ہے، کسی طالب علم کا امتحان یا انٹرویو رہ جاتا ہے اور کسی ملازم کو دفتر پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے،یہ نقصان ہمیشہ اعدادوشمار میں سامنے نہیں آتا، مگر شہری کی زندگی میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، ریاستی مشینری کا مقصد شہریوں کی زندگی آسان بنانا ہے، نہ کہ چند افراد کی آمدورفت کے لیے ہزاروں لوگوں کی زندگی مشکل بنانا، اگر کسی شخص کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو اس کی حفاظت کیلئے مناسب انتظامات کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ، دیگر اہم عہدے داروں یا خطرے سے دوچار افراد کیلئے قانون کے مطابق سکیورٹی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن سکیورٹی اور شاہانہ پروٹوکول میں فرق ہونا چاہیے،پاکستان میں انتظامی اصلاحات کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اچھے فیصلے تو کر لیے جاتے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی رفتار وقت گزرنے کے ساتھ سست پڑ جاتی ہے، ابتدا میں سختی ہوتی ہے، چند مثالیں قائم کی جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ پرانا نظام نئے ناموں اور نئی صورتوں میں واپس آ جاتا ہے،اس لیے اب اصل ذمہ داری انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور متعلقہ انتظامی حکام کی ہے، انہیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ کن افراد کے ساتھ کتنے پولیس اہلکار اور گاڑیاں تعینات ہیں، ان تعیناتیوں کی منظوری کس نے دی اور ان کے پیچھے سکیورٹی کا کون سا جائز جواز موجود ہے، جہاں اجازت نہیں، وہاں اسکواڈ واپس بلایا جائے، جہاں خطرے کی حقیقی بنیاد موجود ہو، وہاں قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔اس عمل میں کسی سیاسی جماعت، حکومتی عہدے دار، اپوزیشن رہنما، سرکاری افسر یا بااثر خاندان کے لیے الگ معیار نہیں ہونا چاہیے، اگر حکم صرف ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جن کا حکومت سے اختلاف ہے، جبکہ اپنے لوگوں کو استثنا مل جاتا ہے، تو یہ اصلاح نہیں بلکہ سیاسی امتیاز ہوگا۔

حکم نامے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے اور مقررہ وقفوں سے جائزہ لیا جائے، اگر کوئی شخص قواعد کی خلاف ورزی کرکے دوبارہ سرکاری گاڑیاں یا اہلکار اپنے ساتھ تعینات کروا لیتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے، اس طرح یہ فیصلہ کسی ایک دن کی خبر کے بجائے مستقل انتظامی روایت بن سکتا ہے،سرکاری پرچم یا فلیگ اسٹاف کا استعمال بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس میں قانونی استحقاق اور ذاتی خواہش کو الگ رکھنا ضروری ہے، قومی اور سرکاری علامات ریاستی وقار کی نمائندگی کرتی ہیں، کسی فرد کی ذاتی بڑائی کی نہیں، اگر کوئی شخص قواعد کے تحت ان کے استعمال کا مجاز نہیں تو اسے محض اپنی سیاسی حیثیت یا سماجی اثرورسوخ کی بنیاد پر ان کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وی آئی پی کلچر صرف قانون یا حکم نامے سے ختم نہیں ہوگا، اس کے لیے سیاسی قیادت، بیوروکریسی، پولیس اور خود معاشرے کے رویوں میں تبدیلی درکار ہے، جب تک لوگ کسی بااثر شخص کے آگے غیر ضروری جھکنے کو کامیابی اور کسی عام شہری کے حق میں کھڑے ہونے کو نقصان سمجھتے رہیں گے، تب تک یہ کلچر کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہے گا،وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ قدم قابلِ تحسین ہے، لیکن اس کی کامیابی کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ نتائج سے ہوگا، کیا ارکان اسمبلی اور سرکاری افسروں کے غیر مجاز اسکواڈ واقعی ختم ہوں گے؟ کیا سڑکوں پر عام شہریوں کی آمدورفت کو ترجیح دی جائے گی؟ کیا سرکاری وسائل کے غیر ضروری استعمال پر پابندی برقرار رہے گی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا قانون کا اطلاق حکمران جماعت کے افراد اور مخالفین پر یکساں ہوگا؟اگر ان سوالات کے جواب عملی طور پر مثبت سامنے آتے ہیں تو یہ پنجاب میں انتظامی اصلاح کی ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔