جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس سے روابط تھے:جے ڈی وینس

واشنگٹن (اے پی/رائٹرز) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

جو روگن کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایپسٹین کے “امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین حلقوں” اور “اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین حلقوں” سے روابط تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایپسٹین بظاہر اسرائیلی “ڈیپ اسٹیٹ” کے بائیں بازو سے وابستہ عناصر سے منسلک تھا، تاہم اس حوالے سے بھی انہوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

امریکی نائب صدر نے اس انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایپسٹین فائلز سے متعلق عوامی رابطے کا معاملہ “درست انداز میں نہیں سنبھالا”۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو ابتدا ہی میں تمام دستیاب دستاویزات جاری کر دینی چاہئیں تھیں، تاہم ان کے خیال میں ایسا کسی حقیقت کو چھپانے کے لیے نہیں کیا گیا تھا۔

جے ڈی وینس نے سابق اٹارنی جنرل پام بانڈی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایپسٹین کی مبینہ “کلائنٹ لسٹ” ان کی میز پر موجود ہے۔ وینس نے کہا کہ ان کے خیال میں پام بانڈی نے سیاسی دباؤ کے باعث اس معاملے میں دستیاب معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جس کے بعد انہیں شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انتظامیہ کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمۂ انصاف نے بعد ازاں “ایپسٹین فائلز” کے نام سے متعدد دستاویزات جاری کیں، جن میں سے بڑی تعداد پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب مواد پر مشتمل تھی، جبکہ اس معاملے پر مزید دستاویزات کی اشاعت سے متعلق بحث جاری ہے۔