لیبیا :تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے 50 افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ

طبرق، لیبیا (رائٹرز) لیبیا کے مشرقی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک لکڑی کی کشتی الٹنے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 50 افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حادثہ منگل کے روز طبرق شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر مغرب میں واقع بردعہ جزیرے کے قریب پیش آیا۔

رائٹرز کے مطابق کشتی میں تقریباً 60 افراد سوار تھے، جن کا تعلق افریقا کے صحرائے اعظم کے جنوب میں واقع مختلف ممالک سے تھا۔ وہ یورپ پہنچنے کی کوشش میں بحیرۂ روم عبور کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد صرف 10 افراد کو زندہ بچایا جا سکا، جبکہ باقی افراد کی تلاش جاری ہے۔

لیبیائی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ سانحہ طبرق کے قریب ایک اور کشتی کے ریسکیو آپریشن کے ایک روز بعد پیش آیا، جس میں امدادی ٹیموں نے چار افراد کی لاشیں نکالیں جبکہ 24 تارکینِ وطن کو زندہ بچا لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کشتی میں مجموعی طور پر 28 افراد سوار تھے، جو دو ہفتوں تک سمندر میں پھنسے رہے اور انتہائی خراب انسانی حالات کا سامنا کرتے رہے، جس کے دوران چار افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کے مطابق زندہ بچ جانے والے افراد کو طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دونوں واقعات کے بعد بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کے لیے انسانی بحران ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے۔

یہ واقعہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے ایک اور حادثے کے بعد سامنے آیا ہے، جب طبرق کے قریب کشتی ڈوبنے سے تقریباً 26 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق لیبیا سے یورپ جانے والا بحیرۂ روم کا وسطی راستہ دنیا کے خطرناک ترین مہاجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال سیکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔