حوثیوں نے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

صنعا (رائٹرز) یمن کی حوثی تحریک انصار اللہ کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید اضافہ کیا تو مملکت کی تیل تنصیبات اور دیگر اہم مراکز حوثیوں کے میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف ہوں گے۔

ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں عبدالمالک الحوثی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل دنیا میں شر اور بدامنی کے بنیادی ذرائع ہیں۔

حوثی رہنما نے دعویٰ کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی جنگوں کو ہوا دے کر فلسطین سمیت مختلف خطوں میں ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ “گریٹر اسرائیل” کے قیام کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے کا منصوبہ خطے میں جاری جنگوں کے پس منظر میں کارفرما ہے۔ یہ الزامات ان کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں اپنی عسکری مداخلت میں اضافہ کیا تو “ہوائی اڈوں کے بدلے ہوائی اڈے، بندرگاہوں کے بدلے بندرگاہیں اور ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی” کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ میزائل حملوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان چار سال سے جاری کشیدگی میں کمی کا سلسلہ ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے۔