سرکاری یونیورسٹیوں کا مطلوبہ کردار

سوال یہ تھا کہ کیا ہماری سرکاری یونیورسٹیاں کیا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں زیادہ تر ماہرین اور کرمفرماؤں نے اسکا جواب نفی میں دیا ہے۔ میں تو کئی سال سے ساری امیدیں اپنی یونیورسٹیوں سے وابستہ کیے ہوئے ہوں اور درخواست کرتا رہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں جو مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں۔ انکے اسباب اور ممکنہ نتائج پر تحقیق کرتے رہیں۔ اس تحقیق سے عوام کو بھی آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں اور آزادی کے 80ویں سال میں پانچ سے دس ہزار سالہ تہذیب کی میراث رکھنے والا ہمارا ملک جس افرا تفری اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، ارباب دانش، ماہرین تعلیم اور سماجی تجزیہ کاروں کے نزدیک اسکا مرکزی سبب ہمارا نصاب ہمارا طرز تدریس اور ہماری درسگاہوں کا ابتر ماحول ہے۔ گزشتہ کالم میں ہم نے ملک کی ایک بڑی درسگاہ کراچی یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس درسگاہ کو درپیش مسائل کا احاطہ کیا ۔اس کیلئےبھی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طالب علموں سے ڈیٹا حاصل کیا۔ اخبار کے صفحات میں بھی کالم بہت پڑھا گیا۔ فیس بک پر تو 30ہزار نظروں کا شمار ہوا۔ جس سے مجھے اطمینان ہوا کہ ہمارے نوجوانوں میں احساس زیاں ہے۔ اور ہم سب مل جل کر اس زیاں کی تلافی کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی جامعات میں ایسی نسلیں تیار کرنے کیلئے کمر باندھ لیں جو عملی زندگی میں آ کر کسی اصول پر سمجھوتہ نہ کریں۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کیساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ آج وہاں اسی سوال پر بات ہو سکتی ہے۔کہ کیا سرکاری یونیورسٹیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہی سوال محلے داروں سے بھی موضوع سخن بن سکتا ہے سب کو اس انتشار پر تشویش ہے۔ سب کی اولادیں کسی نہ کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ ہر اہم مسئلے پر ہمیں آپس میں مشاورت کی عادت ڈالنی چاہئے۔ جمہوریت کا یہی تقاضا ہے۔ اس سے ہمیں نئی سوچیں بھی میسر آتی ہیں۔ مسئلے کا اجتماعی حل بھی نکلتا ہے۔ سب کو یہ احساس ہوتا ہے کہ فیصلہ سازی میں انہیں شریک کیا جا رہا ہے۔

سرکاری یونیورسٹیوں کے کردار پر رہنمائی حاصل کرنے کیلئے میں نے پاکستان کے چاروں صوبوں کیساتھ آزاد جموں و کشمیر گلگت بلتستان میں اپنے کرمفرماؤں اور اساتذہ سے رابطے کئے۔ موضوع بہت حساس ہے اسلئے درد مند پاکستانیوں نے اتنی دلجمعی سے جائزہ لیا کہ انکی تجاویز پر ایک پوری کتاب تصنیف کی جا سکتی ہے۔ میں نے مشوروں سے خود بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہم اخباری بوڑھے تو عادی ہو گئے ہیں۔ معاملات کا انتہائی سطحی جائزہ لیتے ہیں۔ ہمارے احباب نے اس مسئلے کا احاطہ تاریخی تہذیبی سماجی زاویوں سے بھی لیا اور جدید ترین تدریسی تناظر میں بھی۔ سب کو یہ خلش ہے کہ یونیورسٹیاں بوجوہ اپنا قائدانہ کردار ادا نہیں کر پا رہی ہیں تعمیر ملت میں ان کا وہ موثر حصہ نہیں ہے جو ترقی یافتہ مہذب جمہوری ملکوں میں ہے۔ ہمارے سماجی افق پر برادریاں ، جاگیرداریاں ، سرداریاں اور سخت گیری غالب ہے۔ یہ تجاویز جن ہستیوں سے حاصل کی ہیں بہت نامی گرامی ہیں۔ لیکن میں بغیر نام کے تجاویز دینا مناسب سمجھتا ہوں ۔ان ماہرین نے انتظامی معاملات کو بھی اہمیت دی ہے مگر زیادہ زور اس بات پر ہے کہ جامعات اصولی اور نظریاتی طور پر قوم کی تعمیر میں جو حصہ لیتی ہیں ہماری سرکاری یونیورسٹیوں میں وہ ماحول نہیں ہے۔

برسوں ملکی اور غیر ملکی جامعات میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ رہنے والے ایک معززاسکالر نے کہا کہ جامعہ یا یونیورسٹی کا بنیادی تصور تو یہ تھا کہ ایک ہی درسگاہ میں ایک طالب علم کو تمام جدید و قدیم علوم پڑھائے جائیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل کے ذہن میں سب علوم کی روشنی یکجا ہو لیکن وقت کے ساتھ شعبے بڑھتے گئے ۔تدریسی عمل تقسیم ہوتا گیا۔ اس طرح جامعیت متاثر ہوئی۔ ایک جامعہ میں جب ایک نوجوان آتا ہے تو وہ بہت کچھ مشاہدہ مطالعہ کر چکا ہوتا ہے اس لیے اس کے ذہن کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ استاد عام طور پر ان پر اپنا ذہن مسلط کر دیتے ہیں۔ اس سے جامعہ کی فکری آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ہمارے امتحانات کا سلسلہ بہت ناکارہ ہے جس کیلئے نقل کی بدعت بھی شروع ہو جاتی ہے ۔تعلیم کے قرینے نوجوانوں کی ذہانت کے مطابق نہیں ہیں۔ بلکہ ایک بھیڑچال کا کلچر ہے۔ نصاب کی کتابوں تک محدود رہا جاتا ہے۔ لائبریریوں میں جا کر نئے خیالات کے مطالعے اور نئے مضامین سے استفادے کا کلچر اب نہیں رہا۔ اسٹوڈنٹس یونین کا تصور معاشرے کی تربیت کے حوالے سے وسیع تر ہے مگر اسے کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ کر کے متنازع اور محدود کر دیا گیا۔ دنیا بھر میں طلبہ فکری آزادی کی بدولت ایک قوت بنکر ابھر رہے ہیں تو یہ وہاں کی تدریس اور آزادانہ فضا کی بدولت ہے۔ بیرون ملک مقیم ایک ماہر تعلیم سے بات ہوئی انکا بھی یہی کہنا تھا کہ سرکاری یونیورسٹیاں اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پا رہیں۔ جسکے کئی اسباب ہیں زیادہ تر یونیورسٹیوں پر ایسے افراد حاوی ہو گئے ہیں جو یونیورسٹی میں تعلیم یا ریسرچ کا اشتیاق لے کر نہیں آتے ۔صرف نوکری مطمح نظر ہوتی ہے۔

یونیورسٹیوں کی ابتر صورتحال پیدا کرنے میں حکومت کا بھی ہاتھ ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کا کلچر 100 فیصد رشوت اور اقربا پروری پر مشتمل ہو گیا ہے۔ حکومتی مداخلت نے یونیورسٹیوں میں بھی اسی کلچر کو فروغ دیا ہے۔ نئی یونیورسٹی بنانے کا شوق جنون کی حد تک ہے۔ کیونکہ چارٹر دیتے وقت سیاستدانوں کو مالی منفعت ہوتی ہے۔ پھر جب یونیورسٹی کی تعمیر اور تشکیل ہوتی ہے تو اس میں بھی خورد برد کے مواقع ملتے ہیں۔ اپنے لوگوں کو وائس چانسلر لگوایا جاتا ہے۔ اچھے لوگوں کو وی سی لگانے میں کہیں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ امتحان کا طریقہ زیادہ تر اساتذہ کو نہیں آتا ۔ اساتذہ اور طلباء کا زیادہ وقت سیاسی سرگرمیوں میں گزرتا ہے۔

سیاسی تنظیمیں اکثر یونیورسٹیوں پر غلبہ پا چکی ہیں۔ ریسرچ کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن اس تحقیق سے معاشرے کی بہتری میں انسانیت کے فروغ میں کیا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا۔ سب سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ توجہ تعلیمی کلچر کی وسعتوں پر نہیں ہے۔بحث عام طور پر سطحی موضوعات پر ہوتی رہتی ہے۔ ایک سینئر پروفیسر نے کہا کہ جس قسم کا انتظامی ماحول ہے اور حکومت کی طرف سے مداخلت اور پابندیاں ہیں اس میں یونیورسٹیاں اپنا کردار کیسے ادا کر سکتی ہیں یونیورسٹیوں میں داخلے بھی بہت کم ہو رہے ہیں کیونکہ اکثر کالجوں میں بی ایس کے داخلے شروع کر دیے گئے ہیں جو اسٹوڈنٹس کے گھر کے نزدیک بھی ہیں اور فیسیں بھی کم ہیں اس لیے یونیورسٹیوں میں داخلے کم ہو رہے ہیں۔ کالم کی تنگ دامنی کے پیش نظر بات یہاں ختم کرتے ہیں۔ دیگر تجاویز آئندہ۔