سعودی عرب کی خام تیل سپلائی متبادل راستوں سے بحال کرنے کی کوششیں

ریاض، کراچی(رائٹرز، وزارتِ توانائی) سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کے بعد خام تیل کی برآمدات بحال رکھنے کے لیے متبادل راستوں سے سپلائی بڑھانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے عمان کے قریب جہاز سے جہاز میں خام تیل منتقل کرنے کے ذریعے برآمدات جاری رکھنے کی کوششیں بڑھائی ہیں، جبکہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی جزوی بحالی کے لیے بھی کام جاری ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے خام تیل بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کیا جاتا ہے اور اس راستے سے آبنائے ہرمز کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی۔ رائٹرز کے مطابق جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 104 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 102 ڈالر فی بیرل تھی۔ مارکیٹ میں سعودی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں کچھ کمی آنے کے بعد قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔

سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔ یہ پائپ لائن روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل بحیرۂ احمر تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور آبنائے ہرمز کے متبادل اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

پاکستان میں حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 47 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا، جس کے بعد نئی قیمت 424 روپے 92 پیسے فی لیٹر ہوگئی، جبکہ پٹرول کی قیمت 43 پیسے فی لیٹر کم کرکے 390 روپے 79 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں 18 ستمبر سے نافذ ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد مال برداری کے کرایوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ملک شہزاد اعوان کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

مال برداری کے کرایوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کی لاگت بڑھنے اور اس کے نتیجے میں صارفین کیلئےاشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔