نیویارک:ایرانی وفد کوامریکی ویزا جاری، خریداری اور نقل و حرکت پر پابندیاں

واشنگٹن (امریکی محکمۂ خارجہ، ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز) امریکی انتظامیہ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے جاری کردیے، تاہم ایرانی وفد پر نیویارک میں نقل و حرکت اور خریداری سے متعلق سخت پابندیاں عائد رہیں گی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ایران کے بنیادی وفد اور ضروری عملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کی اجازت ہوگی، تاہم وفد گزشتہ سال کے مقابلے میں محدود تعداد پر مشتمل ہوگا اور اس کے ارکان مخصوص سفری پابندیوں کے تحت رہیں گے۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی حکام کی نیویارک میں نقل و حرکت اقوام متحدہ کے مرکز کے گرد متعین مخصوص علاقے تک محدود رہے گی اور انہیں مخصوص مقامات سے باہر جانے کے لیے پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

ایرانی وفد کے ارکان کو امریکا میں تھوک فروخت کرنے والے رکنیت پر مبنی بڑے مراکز کی رکنیت لینے یا وہاں خریداری کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ تعیشاتی اشیا کی خریداری پر بھی پابندی برقرار رہے گی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا ہے کہ ایرانی اقوام متحدہ مشن کے حکام، دورے پر آنے والے ایرانی حکام اور ان کے زیرکفالت افراد تعیشاتی اشیا یا تھوک خریداری مراکز کی رکنیت حاصل نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے نیویارک کے خوردہ فروشوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ ممنوعہ خریداری میں ایرانی حکام کی معاونت نہ کریں۔

امریکی پابندیوں کے تحت ماضی میں ایرانی حکام کی خریداری پر مزید حدود بھی عائد کی گئی تھیں، جن میں قیمتی گھڑیاں، زیورات، خوشبوئیں، چمڑے کی اشیا اور بعض مہنگی برقی مصنوعات سمیت مہنگی اشیا کی خریداری شامل تھی، جبکہ مہنگی گاڑیوں کی خریداری بھی پابندیوں کے دائرے میں رہی ہے۔

گزشتہ سال ایرانی وفد کی نقل و حرکت کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے گرد محدود علاقے تک محدود کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندوں نے بعد میں ان پابندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام نے وفد کی نقل و حرکت اور بعض روزمرہ خریداریوں تک رسائی پر بھی سخت شرائط عائد کی تھیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں وفد کو ویزے ایسے وقت میں دیے گئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی اور جنگ جاری ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے ویزوں کی منظوری کو اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریوں سے جوڑا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی حکام کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے سے انکار کردیا ہے، تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے محمود عباس کو ویڈیو رابطے کے ذریعے خطاب کی اجازت دے دی ہے۔