ریاض (رائٹرز، اے ایف پی، عرب نیوز، اقوام متحدہ) سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے پیش نظر چین سے مدد کی اپیل کی ہے، جس کے بعد چین نے ایران پر حوثیوں کو سعودی عرب کیخلاف کارروائیاں روکنے پر آمادہ کرنے کیلئے نجی طور پر دباؤ ڈالا ہے۔
رائٹرز کے مطابق تین ایرانی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے چین سے حوثیوں کیخلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی۔ چین نے ایران پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کو سعودی عرب کیخلاف حملے روکنے اور بحیرہ احمر اور خطے کی توانائی کی گزرگاہوں میں کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ ختم کی جائے۔
چین نے سرکاری طور پر بھی کہا ہے کہ وہ یمن اور بحیرہ احمر تک موجودہ کشیدگی پھیلنے سے گریز چاہتا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ تنازع کا حل مذاکرات اور سیاسی ذرائع سے تلاش کیا جائے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ پر زور دیا کہ ایران اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب کے توانائی اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے روکے۔
یمن میں اس دوران لڑائی میں بھی شدت آگئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف حملوں اور جھڑپوں میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 23 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ حوثی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں میں 40 حوثی جنگجو مارے گئے۔
ادھر سعودی عرب کے شہر طائف میں حوثیوں کے ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے سے ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوگئے۔ سعودی سول ڈیفنس اور سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ڈرون کا ملبہ عمارتوں اور گاڑیوں پر بھی گرا، جبکہ زخمی پاکستانی شہری کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ مشن کے مطابق فروری میں ایران میں امریکا کے دو حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر معقول بنیاد موجود ہے۔ ان حملوں میں صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک اسکول اور ایک کھیلوں کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کم از کم 178 شہریوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔
اقوام متحدہ کے مشن نے ایرانی حکام پر بھی الزام عائد کیا کہ احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائیوں کے دوران انسانیت کیخلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے اور تمام آپشنز زیر غور ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ پولینڈ میں امریکی فوجی اڈے کے قیام کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے اور اس کے مقام کا اعلان جلد کیا جاسکتا ہے۔

