واشنگٹن (امریکی محکمہ خارجہ، ایسوسی ایٹڈ پریس، اے ایف پی) ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد کے ضروری عملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا کا ویزا جاری کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے بنیادی وفد کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق وفد میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی وفد گزشتہ سال کے مقابلے میں محدود تعداد میں ہوگا اور اس کے ارکان پر نیویارک میں سفری پابندیاں عائد ہوں گی، جبکہ بعض اشیا، خصوصاً تعیشات پر مشتمل سامان کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جبکہ ایرانی وفد کی امریکا آمد ایسے وقت میں ہورہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور شدید کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی حکام کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی حکام کے خلاف ویزا پابندیاں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل فلسطین تنازع کو عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی اداروں تک لے جانے سمیت دیگر اقدامات کی وجہ سے برقرار رکھی گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس کو دوسری مرتبہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دی گئی ہے۔ جنرل اسمبلی نے اس مقصد کے لیے قرارداد 152 ووٹوں سے منظور کی، جبکہ 3 ممالک نے مخالفت اور 4 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی فیصلے پر فلسطینی اتھارٹی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی حکام پر پابندیاں عائد کرنے سے امن اور سیاسی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں ملتی۔
اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی اجلاس عالمی رہنماؤں کی شرکت کے ساتھ اگلے ہفتے نیویارک میں ہوگا، جس میں ایران امریکا جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، روس یوکرین جنگ اور دیگر عالمی بحرانوں پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

