اسلام آباد (نامہ نگار) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نویں مرتبہ اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق، گزشتہ دنوں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ آج آفریدی اور دیگر پارٹی رہنما ملاقات کیلئےجیل پہنچے مگر جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہ دی۔ آفریدی نے جیل کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل نویں بار ملاقات سے انکار امتیازی سلوک ہے اور وہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
افریـدی نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ بار بار ملاقات کیلئے آیا مگر پانچ منٹ کی ملاقات بھی ممکن نہ ہوئی انہوں نے حکومت کی پالیسی کو “ناانصافی اور امتیازی سلوک” قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون اور آئین کی روشنی میں احتجاج ان کا آئندہ آپشن ہو سکتا ہے۔
آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت گورنر راج جیسے اقدامات اپنائے گی تو وہ عوامی غم و غصے سے دوچار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے لوگ اپنا مستقبل ان پر دیکھتے ہیں، اور اگر ضرورت ہوئی تو وہ احتجاج سمیت دیگر آپشنز اختیار کریں گے۔پارٹی ذرائع نے جیل کے باہر حامیوں کی بڑی تعداد کی تصاویر جاری کی ہیں، جن پر پارٹی کے لوگ اور کارکن بڑی تعداد میں جمع تھے۔

