سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ،نبیل اعوان کیلئے

فواد حسن فواد اور نجیب اللہ ملک جیسے محنتی،کمپیٹنٹ ،آئین پاکستان اور سرکاری قواعد وضوابط سمجھنے والے بیوروکریٹ اب خال خال ہی ملتے ہیں،دونوں بڑے ظرف والے بھی ہیں،پتہ نہیں اس قبیل کے افسر اتنی جلدی ریٹائرڈ کیوں ہو جاتے ہیں،دونوں میرے ساتھ علیحدہ علیحدہ گفتگو میں گزشتہ روز ایک تیسرے اور بہت ہی اچھے افسر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کے کاموں کی تعریف کر رہے تھے،نبیل اعوان جب سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بنے ہیں،اچھا کھیل رہے ہیں،سرکاری افسروں کے پروموشن بورڈ ہوں ، انکی ویلفئیر یا کسی حق کا کوئی مسئلہ ہو ، وہ نرم دم گفتگو ،گرم دم جستجو کی عملی تصویر بنے ہوتے ہیں اور اب باسٹھ سال بعد سول سرونٹس(کنڈکٹ)رولز کو نئے سرے سے ترتیب دینا اور اسے موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی انہی کا کام ہے،فواد حسن فواد بجا کہہ رہے تھے کہ ایسے کام نبیل ہی کر سکتا ہے،ناصر کھوسہ ہو ،میجر اعظم سلیمان یا پھر راؤ تحسین ، پتانہیں کون کون ،نبیل اعوان کے کاموں کا معترف ہے ،جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے کہ مصداق صرف پنجاب حکومت ہی انکی خدمات سے محروم رہی۔

میرے چھوٹے بھائیوں جیسے مگر پسندیدہ سیاستدان ندیم افضل چن ان قواعد پر میرے ساتھ تفصیلی گفتگو کے لئے چند دنوں بعد ملنے آ رہے ہیں ،میں ان کو اس کالم کے ذریعے بتا دینا چاہتا ہوں ،سرکاری ملازمین اور افسروں کی دوہری شہریت کا مسئلہ بھی نبیل اعوان جیسا افسر ہی حل کرے گا۔

پاکستان میں سول سروس کو ہمیشہ ریاستی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کہا گیا ہے، یہی وہ طبقہ ہے جس کے کندھوں پر پالیسیوں کے نفاذ، عوامی مسائل کے حل اور ریاستی مشینری کو چلانے کی ذمہ داری ہوتی ہے، اسی لیے ہر دور میں سرکاری ملازمین کے لیے ضابطۂ اخلاق مرتب کیے جاتے رہے تاکہ ان کے طرزِ عمل، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ دیانت کو یقینی بنایا جا سکے، حالیہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہیں جن میں خاص طور پر سوشل میڈیا، مفادات کے ٹکراؤ، اثاثوں کے اعلان اور سیاسی سرگرمیوں جیسے حساس پہلوؤں کو زیادہ واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔سابق چیف سیکرٹری پنجاب نجیب اللہ ملک نے کہا کہ ان رولز کو نئے سرے سے سامنے لانا قابل قدر کام ہے اور اس کا ماخذ آئین پاکستان اور ایسٹا کوڈ ہی ہے، مگر اصل سوال وہی پرانا ہے، کیا ہمارے سرکاری ملازمین ان اصولوں پر عمل بھی کر یں گے یا پھر ہمیشہ کی طرح یہ ضابطے صرف فائلوں تک محدود رہیں گے؟ ان کی بات میں وزن ہے۔

گر ہم سب سے پہلے سوشل میڈیا کے پہلو کو دیکھیں تو یہ شاید اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع ہے، کنڈکٹ رولز واضح طور پر کہتے ہیں کہ سرکاری ملازم اپنی سرکاری حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی تشہیر نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ سرکاری کاموں کو اس انداز میں پیش کرے کہ اس سے ذاتی فائدہ یا شہرت حاصل ہو، لیکن آج کی حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک نیا “افسر کلچر” جنم لے چکا ہے، افسر اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو نہ صرف شیئر کرتے ہیں بلکہ اسے ایک باقاعدہ بیانیہ کی صورت دیتے ہیں کہ وہ عوام کے “ہیرو” ہیں، وہی واحد حل ہیں اور نظام انہی کے گرد گھومتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، کیا عوامی آگاہی اور ذاتی تشہیر کے درمیان کوئی واضح لکیر موجود ہے؟ بظاہر یہ لکیر بہت باریک ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ حد ہے جسے عبور کرنے سے مسائل جنم لیتے ہیں، جب ایک افسر ہر کارروائی کو کیمرے کے سامنے انجام دیتا ہے، جب ہر میٹنگ اور ہر چھاپہ ایک “کنٹینٹ” بن جاتا ہے، تو اس کا مقصد خدمت سے زیادہ نمائش محسوس ہونے لگتا ہے، اور اصل کام کی سنجیدگی بھی متاثر ہوتی ہے۔مزید برآں، یہ رجحان ادارہ جاتی کام کو انفرادی کارکردگی میں بدل دیتا ہے، حالانکہ بیوروکریسی کی اصل روح ٹیم ورک اور ادارہ جاتی تسلسل میں ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کی شخصیت میں، اگر ہر افسر خود کو ہیرو بنا کر پیش کرے گا تو ادارہ پس منظر میں چلا جائے گا، اور یہی وہ خطرہ ہے جس سے کنڈکٹ رولز بچانا چاہتے ہیں،اب اگر مفادات کے ٹکراؤ کی بات کریں تو یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں اصول تو واضح ہیں مگر عمل کمزور نظر آتا ہے، قواعد کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم ایسا فیصلہ نہیں کرے گا جس میں اس کا ذاتی یا خاندانی مفاد شامل ہو، لیکن عملی دنیا میں تعلقات، سفارشات اور غیر رسمی اثر و رسوخ کو مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں، کئی بار ایسے فیصلے بھی دیکھنے میں آتے ہیں جہاں بظاہر سب کچھ قانونی ہوتا ہے، مگر اخلاقی طور پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

اثاثوں کے اعلان کا نظام اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے متعارف کروایا گیا ہےلیکن سوال پھر یہ ہے کہ کیا صرف اثاثے ظاہر کر دینا کافی ہے؟اصل مسئلہ تو ان اثاثوں کے ذرائع ان کے اضافے اور ان کے پیچھے موجود کہانی کا ہے۔

تحائف اور مراعات کے حوالے سے بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، قواعد واضح ہیں کہ کوئی بھی تحفہ قبول نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہماری معاشرتی روایات میں تحفہ اور تعلقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، سیاسی غیر جانبداری کا اصول بھی ایک مثالی تصور ہے، بیوروکریسی اور سیاست کے درمیان تعلق ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے، تقرریاں، تبادلے اور اہم عہدوں پر تعیناتی اکثر سیاسی اثر و رسوخ کے تابع ہوتی ہیں ایسے ماحول میں ایک افسر کیلئے مکمل غیر جانبدار رہنا ایک چیلنج بن جاتا ہے لیکن اگر یہ اصول مضبوطی سے نافذ ہو جائے تو نہ صرف گورننس بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔

کنڈکٹ رولز میں سادگی اور اعتدال کی زندگی گزارنے پر بھی زور دیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی آمدن کے مطابق زندگی گزاریں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کریں، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو کئی ملازموں کا طرزِ زندگی اس کے برعکس نظر آتا ہے، بڑی تقریبات، مہنگی گاڑیاں اور شاہانہ رہن سہن نہ صرف سوالات کو جنم دیتے ہیں بلکہ یہ ایک غلط مثال بھی قائم کرتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو رویہ اور برتاؤ کا ہے، ایک سرکاری ملازم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شائستگی، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش آئے، لیکن عوامی سطح پر اکثر شکایات سننے کو ملتی ہیں ،یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سرکاری ملازم ایک جیسا نہیں ہوتا، بہت سے افسر ایسے بھی ہیں جو خاموشی سے بغیر کسی تشہیر کے انتہائی دیانت داری سے اپنا کام کر رہے ہیں۔

آخر ی بات، قوانین بنانا آسان ہے ان پر عمل کروانا مشکل، کنڈکٹ رولز 2026 ایک جامع اور واضح فریم ورک فراہم کرتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا ہم انہیں سنجیدگی سے لیتے ہیں یا نہیں، سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ تیمور عظمت عثمان کہتے ہیں ، کنڈکٹ رولز سرکاری ملازمین کیلئےبائینڈنگ ہیں انکی بات اہم ہے میرے خیال میں نبیل اعوان نے ایک بہترین کام کیا ہےانکی ستائش اپنی جگہ مگر ان قواعد و ضوابط پر عملدرآمد ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔