4 اپریل 1979 صرف ایک تاریخ نہیں، یہ پاکستان کی آئینی اور اخلاقی تاریخ کا وہ زخم ہے جو آج تک مکمل طور پر نہیں بھرا۔ اس روز پاکستان نے اپنے عظیم ترین رہنما، ذوالفقار علی بھٹو، کو کھو دیا۔ ایک بلند پایہ مدبر، غیر معمولی بصیرت اور کرشمے کے حامل قائد، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، اور ایک منتخب وزیرِ اعظم، جنہیں ایک ایسے عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی جسے تاریخ نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ یہ فیصلہ محض متنازع نہیں تھا؛ اسے وسیع پیمانے پر عدالتی قتل سمجھا گیا۔ اس کی قانونی حیثیت عوامی شعور میں ہمیشہ مشکوک رہی، مگر دہائیوں تک بعض حلقےجو آئینی اصولوں سے زیادہ سیاسی تعصب کے اسیر تھے۔ اسے قانون کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کرتے رہے۔ سوال مگر وہی رہا اور مسلسل گونجتا رہا: کیا یہ انصاف تھا، یا انصاف کے نام پر ایک منظم انکار؟
اس سوال کا سب سے مستند جواب مارچ 2024 میں سامنے آیا، جب سپریم کورٹ آف پاکستان نےطویل عرصے سے زیرِ التوا صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم نو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ بھٹو کی پھانسی تک پہنچنے والی کارروائیاں نہ شفاف تھیں اور نہ ہی آئین اور قانون کے مطابق عدالت ماضی کو بدل نہیں سکتی تھی مگر اس نے ایک نہایت اہم کام ضرور کیااس نے آئینی ریکارڈ کو درست کر دیا۔
1979 میں، فوجی حکمرانی کے سائے تلے، پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک منتخب وزیرِ اعظم کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ یہ محض ایک غلط فیصلہ نہیں تھا؛ یہ عدالتی ضمیر کی شکست تھی۔ آئین کے محافظ ہونے کے ناطے جن ججوں پر ذمہ داری عائد تھی، وہ انتظامی دباؤ اور ذاتی تعصبات کے سامنے جھک گئے۔ ایک ایسا مقدمہ جو طریقۂ کار کی بے ضابطگیوں، مشکوک شواہد اور منقسم بنچ سے عبارت تھا، آمریت کے سامنے عدلیہ کی سرنگونی کی علامت بن گیا اور اس نے عدلیہ کی ساکھ کو ایسا نقصان پہنچایا جو دہائیوں تک محسوس کیا جاتا رہا۔ جب عدالتیں طاقت کے سامنے جھک جائیں تو انصاف صرف مؤخر نہیں ہوتا، وہ مسخ ہو جاتا ہے۔
دہائیوں تک بھٹو کیس قومی یادداشت میں ایک بے چینی کی صورت زندہ رہا، عام طور پر اسے ناانصافی سمجھا جاتا تھا، مگر حتمیت کے اصول کے پردے میں محفوظ رکھا گیا۔ سیاست دانوں نے اس کی مذمت کی، دانشوروں نے اس کا تجزیہ کیا، وکلا نے اسے زندہ رکھامگر وہ ادارہ جس نے یہ فیصلہ دیا تھا، خاموش رہا۔ یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں تھی یہ ناانصافی کا تسلسل تھی مگر تاریخ صبر کرتی ہے اور انتظار بھی۔
یہ انتظار اُس وقت ختم ہوا جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تحریر کردہ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے سامنے آئی۔ کئی دہائیاں پہلے دی گئی سزائے موت کو پلٹنا ممکن نہیں تھا، مگر عدالت نے اس سے زیادہ اہم کام کیا: اس نے آئینی سچائی کو بحال کیا۔ جسٹس عیسیٰ نے دوٹوک انداز میں قرار دیا کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا اور ان کے خلاف عدالتی عمل بنیادی طور پر ناقص تھا۔ پہلی بار، خود عدلیہ نے وہ تسلیم کیا جسے عوام اور تاریخ پہلے ہی مان چکے تھے۔
جسٹس عیسیٰ نے اس مقدمے کو محض ایک بند فوجداری معاملہ نہیں بلکہ ایک گہری آئینی ناکامی کے طور پر دیکھا۔ ان کی رائے نے واضح کیا کہ کس طرح فوجی دور میں عدالتی آزادی متاثر ہوئی، مناسب قانونی عمل پامال ہوا، اور غیر جانبدار ٹریبونل کے حق سے انکار کیا گیا۔ اس فیصلے نے ایک بنیادی اصول کو ازسرِ نو واضح کیا: انصاف سے جدا قانونی حیثیت کبھی بھی جواز پیدا نہیں کر سکتی۔ عدالتیں اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہیں جب وہ طاقت کے آلہ کار بن جائیں، نہ کہ بنیادی حقوق کی محافظ۔
اس فیصلے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ آمریت کے تحت ججوں کے پاس “کوئی چارہ نہیں ہوتا”۔ جسٹس عیسیٰ نے واضح کیا کہ آئینی وفاداری حالات کی پابند نہیں ہوتی، حتیٰ کہ جبر کے ماحول میں بھی نہیں۔ اس طرح انہوں نے “نظریۂ ضرورت” کے اس جواز کو بھی رد کر دیا جس نے پاکستان کے آئینی ڈھانچے کو بارہا کمزور کیا۔
جسٹس منظور احمد ملک کے ہم خیال نوٹ نے اس مؤقف کو مزید مضبوط بنایا، جس میں انہوں نے عدالتی ناکامی کے ادارہ جاتی اثرات کو نمایاں کیا۔ جب عدالتیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں تو نقصان صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک اہم نکتہ واضح کیا: فیصلوں کی حتمیت اور ان کی درستگی ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ حتمیت نظام کے لیے ضروری ہو سکتی ہے، مگر وہ اخلاقی یا آئینی جواز فراہم نہیں کرتی۔
اسی فرق نے عدالت کو یہ موقع دیا کہ وہ موجودہ قانونی نظام کو متاثر کیے بغیر ماضی کی ناانصافی کو تسلیم کرے۔ اس نے اس اصول کو تقویت دی کہ آئینی عدالتوں کی ذمہ داری صرف فیصلے دینا نہیں بلکہ سچ بولنا بھی ہے—خاص طور پر جب ماضی کے فیصلے بنیادی حقوق کو مجروح کر چکے ہوں۔
بھٹو کیس میں یہ درستی ایک جان واپس نہیں لا سکتی تھی، نہ ہی دہائیوں کے نقصان کو مکمل طور پر مٹا سکتی تھی۔ مگر اس نے ایک بنیادی کام ضرور کیا: اس نے آئینی ضمیر کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا۔اس نے ثابت کیا کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی معنی رکھتا ہےاور ماضی کی غلطیوں کا اعتراف اداروں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتا ہے۔
یہ فیصلہ صرف ماضی کے بارے میں نہیں، یہ حال اور مستقبل کیلئےبھی ایک معیار ہے۔ عدالتی آزادی، انتظامی تجاوز، اور آئینی جرات کے سوالات آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ عدالتوں کی اصل طاقت نہ تو اختیار میں ہے اور نہ ہی نظائر میں، بلکہ انصاف کے ساتھ ان کی غیر متزلزل وابستگی میں ہے۔
اب تاریخ نے بھٹو کیس کے دو باب لکھ دیے ہیں: ایک اُن کا جنہوں نے آئین کو مصلحت کے حوالے کیا اور خوف و تعصب کو انصاف پر غالب آنے دیا؛ اور دوسرا اُن کا جنہوں نے دہائیوں بعد سچ کو اس کے اصل نام سے پکارنے کی جرات کی۔
آخرکار، تاریخ فیصلے محفوظ رکھتی ہے۔ مگر انصاف صرف وہی ہوتا ہے جو ضمیر قبول کرے۔
اگر تاریخ شہید بھٹو کو ایک ایسے عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جنہیں ناانصافی کے تحت پھانسی دی گئی، تو وہ جسٹس فائز عیسیٰ کو اس جج کے طور پر یاد رکھے گی جس نے کم از کم اپنی حد تک پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے دامن سے ایک سیاہ دھبہ صاف کرنے کی کوشش کی، تاریخ کو سچ کے قریب لایا، اور اس دیرینہ فریب کو توڑا کہ ناانصافی کو قانون کا نام دیا جا سکتا ہے۔

