اب تو ایک عجیب سی عادت بن گئی ہے کہ جیسے ہی کسی منتخب یا”عطا کی گئی“ حکومت کو ”ہنی مون پیریڈ“ (آغاز کے ڈیڑھ دو سال) ختم ہوتا ہے، اور فیصلہ کرنے والے ”ڈور“ کو تھوڑا سا کھینچتے ہیں،،، اور ایوان اقتدار سے دھویں اُٹھتے دکھائی دیتے ہیں توہمیں بھی یہ محسوس ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے،،، اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ عوامی سطح پر جب سوال اُٹھتے ہیں تو بار بار ایک ”پیج“ پر ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں،،، یا کسی ایک جگہ مشترکہ تقریر کرکے بعد میں فوٹو سیشن کروایا جاتا کہ سب کچھ پہلے کی طرح نارمل چل رہا ہے،،، اس کی ایک مثال 2016ءکی دیتا چلوں کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے،،، تو اُس وقت جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے،،،دونوں صاحبان نے بلوچستان کا دورہ کیا ،،، اور جیپ میں بیٹھے ہوؤوں کی تصویر تمام اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی گئی،،، اور کیپشن دیا گیا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ، لہٰذاادارے اور جمہوریت ایک ہی پیج پر اکٹھے ہیں،،، لیکن چند ماہ بعد نواز شریف اپنے عہدے پر نہ رہے،،، پھر آپ عمران خان دور کی بات کر لیں،،، اُس وقت بھی یہی ماحول تھا، عمران خان اقتدار میں رہتے ہوئے ہی ایسی تقریریں کرتے تھے کہ جس سے یہ تاثر ملتا رہا ہے کہ سب اچھا نہیں ہے،،، اور اب پھر وہی حالات آچکے ہیں،،، حکومت کو دو ڈھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے،،، اور ”ووٹ کو عزت دو“ والے نعرے پر ٹاکی شاکی پھیری جا رہی ہے،،،یعنی حالات نارمل نہیں ہیں تو ایسے میں ”فیورٹ “ وزیر کچھ اور بیان دے رہے ہیں،،، جبکہ دیگر وزراءکے بیانات کچھ اور ہیں،،، جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سب کچھ اچھا نہیں چل رہا،،، اور پھر آپ مستقبل کے ممکنہ دو ”وزرائے اعظم“ محترمہ مریم نواز اور محترم بلال بھٹو زرداری کو ایک دوسرے کیخلاف بیانات کے تیر چلاتا دیکھ رہے ہیں،،، جو کشمیر کے الیکشن کو لے کر خاصے سنجیدہ ہیں،،، حالانکہ کشمیر کے الیکشن اس قدر دھاندلی زدہ بنا دیے گئے ہیں کہ شاید اس کے اثرات اگلی کئی دہائیوں تک رہیں،،،
چلیں یہ تمہید تو مجموعی طور پر ملکی سیاسی صورتحال کی تھی،،، لیکن عوام کی صورتحال کیا ہے؟ کیااس کی بھی کسی کو خبر ہے؟ کیا کوئی عوام سے بھی پوچھ رہا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں،،، پٹرول ، گیس، بجلی سب کے نرخ بڑھا دیے گئے ہیں،،، عوام بجلی سے جان چھڑا کر سولر پینل کی طرف آتے ہیں تو یہ اُس پر بھی ٹیکس لگا دیتے ہیں،،، نئی سرمایہ کاری نہیں آرہی ہے۔پٹرول کی قیمت میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضے کی قسطیں لینے پر زور ہے۔ ریکوڈک کا سونا اور دیگر معدنی وسائل ہماری راہ تک رہے ہیں۔الغرض واہگہ سے گوادر تک ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ عوام مایوس ہیں۔ وزیراعظم عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے قوم سے خطاب نہیں کر رہے۔خطاب میں آخر وہ کہیں کیا؟ کہنے کو کیا کچھ رہ گیا ہے؟ جھوٹ پر جھوٹ بول کر حکومتیں حاصل کرنے والوں کے پاس اب محض اگر کوئی جھوٹ بچا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ ہم دیوالیہ نہیں ہوئے،،، حالانکہ معاشی ماہرین کے نزدیک ہم اس قدر دیوالیہ ہو چکے ہیں کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،،، اور پارلیمانی حالات یہ ہیں کہ نہ ہی پارلیمنٹ عوام کا سوچ رہی ہے،،، نہ کوئی پالیسی بیان دیا جا رہا ہے ۔ نہ عدلیہ عوام کے لیے کھڑی ہو رہی ہے،،، بلکہ اُسے تو سرکار کی بیساکھیاں لا کر دے دی گئی ہیں،،، اقتصادی طور پر قرضے لیے جا رہے ہیں خود کفالت اور کفایت شعاری کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ میرٹ کا سسٹم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی مراعات اور تنخواہیں بڑھا رہے ہیں۔ جاگیردار، زمیندار، سردار، ٹھیکے دار قانون کو اپنی باندی بنا رہے ہیں۔ یہ نظام 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کے بجائے شراکت اقتدار کے تحت شروع ہوا۔ جسے سب ہائی برڈ نظام کہتے ہیں۔ اگر بقول محسن نقوی یہ نظام گر چکا ہے تو اچھا ہی ہوا ہے اقبال کہہ چکے ہیں۔
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
ویسے میری ناقص رائے میں ان تمام تجربات میں جب سسٹم کریش کر گیا ہے تو یہ سسٹم کریش نہیں کر گیا بلکہ عوام کریش ہوگئے ہیں،،، کیا کسی نے پوچھا کہ عوام کیا چاہتے ہیں؟ کیا کسی نے اس طرف توجہ دی کہ عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے؟ آپ گزشتہ 40سال کی بات کر لیں،،، تو ان چار دہائیوںمیں غربت کا تناسب 34فیصد سے بڑھ کر 58فیصد ہوچکا ہے،،، جبکہ چین کا غربت کا تناسب 30فیصد سے 8فیصد پر آچکا ہے،،، دنیا ترقی کرکے نہ جانے کہاں پہنچنے والی ہے،،، جبکہ ہم ابھی تک مسائل کے گرداب میں ہی پھنسے ہوئے ہیں،،، چلیں مان لیا کہ آپ حکومتیں بدلنے کے فیصلے عوام کے لیے لیتے ہیں،،، اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اُنہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ آپ تحریک انصاف کو لا رہے ہیں، ن لیگ کو لا رہے ہیں، یا پیپلزپارٹی کو۔ بلکہ وہ صرف ریلیف چاہتے ہےں،،، جو ان سے کوسوں دور ہو چکا ہے، ،، اور پھر اگر آپ اپنے بہترین تجربات کرنے کے بعد یہ کہیں کہ سسٹم بیٹھ گیا ہے،،، تو پھر اس کا قصور وار کون ہوگا؟ یعنی تجربہ آپ نے کیا، بندہ آپ نے متعارف کروایا، ہمیں کہا گیا کہ اس کو ووٹ ڈالو! یہ بندہ ٹھیک ہے،،، ہم نے کہا ،،، ”اوکے سر!“ لیکن بعد میں وہ بندہ ٹھیک نہ نکلا تو اس کے قصور وار عوام ہیں؟
میرے خیال میں عوام کو تو آج تک اپنے لیڈر منتخب کرنے کا بھی حق ہی نہیں دیا گیا،،، ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی،،انہیں تو فارم 47 اور 45میں اُلجھا کر اُن سے حقِ جمہوریت چھین لیا گیا ہے،،، اگر آپ اس قسم کا ہیر پھیر ملکی ”مفاد“ میں کرتے ہیں تو پھر ذمہ داری بھی لیں،،، اگر کسی کے لانے سے وہ بندہ یا سیاسی جماعت 1000ارب روپے کی کرپشن کر گئی ہے تو پھر اس کی ذمہ داری کس کی؟ یعنی آپ کی سوچ، آپ کے فیصلوں اور آپ کے رویوں کے جو ”آفٹر ایفیکٹس“ ہیں، وہ عوام کیوں بھگتیں؟
اب اگر کوئی میری ان باتوں سے متفق نہیں ہے تو وہ خود دیکھ لے اور مجھے بتائے کہ آج تک عوام نے حقیقی فیصلہ کیا کونسا ہے؟ سارے فیصلے تو اُن پر مسلط کیے گئے ہیں،،، اگر عوام نے بھٹو کو پسند کیا تھا، یا وہ اُسے اقتدار میں لائے تھے،،تو سسٹم نے انہیں پھانسی پر کیوں چڑھا دیا؟ ،،، اورپھر اگر عوام بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لائے تھے،،، تو سسٹم نے اُنہیں چھوٹے موٹے کیسز بنا کر اندر کیوں کر دیا؟ اور پھر یہی نہیں بلکہ آپ خود کہتے رہے ہیں کہ فلاں بندہ کرپٹ ہے،،، جبکہ اس کے متبادل میں فلاں بندہ ٹھیک ہے،،،عوام ہر دور میں آپ کے فیصلوں پر لبیک کہتے رہے ہیں،، ،نہیں یقین تو آپ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں کہ پہلے مارشل لاءسے چوتھے مارشل لاءتک تو ویسے ہی عوام کی کہیں منشاءشامل نہیں تھی،،، پھر 1985ءکے غیر سیاسی الیکشن میں بھی عوام کی منشاءکے بغیر فیصلہ کیا گیا ،،، پھر 90-1988کے دوران سیاسی جماعتوں نے ریاستی اداروں پر مداخلت کے الزامات لگائے،،، جسے بعد میں اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے 2012 میں قرار دیا کہ 1990 کے انتخابات سے قبل بعض سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں، جو غیر قانونی تھا۔پھر 2002میں جنرل مشرف کے دور کے انتخابات پر سرکاری مشینری اور فوجی حکومت کے اثر و رسوخ کے الزامات سامنے آئے۔پھر 2013میں تحریک انصاف نے مخصوص حلقوں میں دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے، جن پر بعد میں انتخابی ٹریبونلز اور عدالتی کارروائیاں بھی ہوئیں۔پھر 2018ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں نے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور نتائج پر اثر انداز ہونے کے الزامات لگائے، جبکہ سرکاری اداروں نے ان الزامات کی تردید کی۔پھر 2024ءکے انتخابات آپ کے سامنے رہے کہ کس طرح فارم 45ءمیں جیتے ہوئے اُمیدواروں کو فارم 47میں ہروا دیا گیا اور کہا گیا کہ یہی حتمی نتائج ہیں، انہی کو تسلیم کیا جائے،،،
الغرض ان تمام غلط فیصلوں کے نتائج کون بھگت رہا ہے،،، عوام؟ تو عوام ایسا کیوں کرے؟ کیا عوام کو یہ پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ اُن کی منشاءکے برخلاف اگر فیصلے ہوئے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی فیصلے مسلط کرنے والوں پر لگائی جانی چاہیے،،، اگر یہ ذمہ داری بھی آپ قبول نہیں کرتے تو پھر بتایا جائے کہ آپ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ کہ آپ یہ بتائیں کہ کون غلط ہے اور کون درست! کیا یہ فیصلے عوام پر نہیں چھوڑ دینے چاہیے؟
بہرکیف ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ اس سارے سسٹم میں عوام کے اختیارات کہاں ہیں؟ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کی غلطیاں عام آدمی پر اثر کرتی ہیں،،، کیا ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ان تمام مسائل کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر” عام آدمی“کو اپنے فیصلوں میں حصے دار بنایا جائے،،، ایسا تو ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ بند کمروں میں عام آدمی کے مسائل پر بڑے بڑے فیصلے کیے جاتے ہیں،،، بعد میں پتہ لگتا ہے کہ یہ فیصلے غلط تھے،،، لہٰذاہم اب نئے ”فیصلے“ کی طرف جا رہے ہیں،،، لہٰذامیرے خیال میں اس نظام کا متبادل حقیقی جمہوریت ہے جہاں صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہو۔کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے۔نیا قابل قبول نظام صرف نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹوں سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے ملک گیرحقیقی ریفرنڈم ہونا چاہیے۔ صرف سیاسی پارٹیاں نہیں یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، دینی مدارس، میڈیا ،تاجر، صنعت کار اچھی حکمرانی کے نظام کے حوالے سے بحث کریں، تحقیق کریں، وفاقی، صوبائی ،بلدیاتی عدالتی اختیارات نئے سرے سے طے کیے جائیں شراکت اقتدار کے بجائے انتقال اقتدار کی طرف بڑھا جائے جو صرف اور صرف منصفانہ الیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کیلئے با اختیار الیکشن کمیشن ناگزیر ہے۔

