وینکوور(گلوبل نیوز، خبر ایجنسیاں) کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے اوکاناگن ریجن میں جنگلات میں لگنے والی شدید آگ کے باعث مزید علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اوکاناگن جھیل کے اطراف بھڑکنے والی آگ نے تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیلنا شروع کیا، جس کے بعد متعدد آبادیوں کو خالی کرایا گیا۔ متاثرہ رہائشی ایٹلین بیکر نے بتایا کہ ہفتے کے روز وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ محفوظ مقام کی جانب روانہ ہوئیں تو چاروں طرف پہاڑ آگ کی لپیٹ میں تھے اور شعلوں کی روشنی سے پورا علاقہ نارنجی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 200 گاڑیاں آہستہ آہستہ محفوظ مقام کی طرف بڑھ رہی تھیں، جبکہ راستے میں آگ کی شدت، درختوں کے گرنے کا خطرہ اور شدید گرمی نے لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ ان کے مطابق فائر فائٹرز زنجیری آروں کے ذریعے سڑک پر گرے ہوئے درخت کاٹ کر راستہ صاف کر رہے تھے تاکہ شہری محفوظ طریقے سے نکل سکیں۔
سنٹرل اوکاناگن ایمرجنسی مینجمنٹ کے مطابق کوئلپٹک کریک جنگل کی آگ کے باعث دو ہزار 200 سے زائد جائیدادوں سے لوگوں کو انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔اوکاناگن جھیل کے شمالی حصے میں بریڈلی کریک جنگل کی آگ کے باعث نارتھ اوکاناگن ریجنل ڈسٹرکٹ نے بھی اتوار کے روز انخلا کے احکامات اور الرٹس میں توسیع کر دی۔ 115 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے والی تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات جل کر تباہ ہو گئے اور شعلے جھیل کے کنارے تک جا پہنچے۔
ایٹلین بیکر نے بتایا کہ ان کے خاندان نے سرکاری انخلا کے حکم سے پہلے ہی اپنا علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ دونوں جانب پھیلتی آگ نے اردگرد کی کئی بستیوں، بشمول اوکاناگن انڈین بینڈ کے ریزرو علاقے، کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جولائی کے پورے مہینے میں خطے میں مؤثر بارش نہیں ہوئی، جس کے باعث زمین انتہائی خشک تھی اور آگ تیزی سے پھیلتی رہی۔برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کے ڈائریکٹر برائے آپریشنز کلف چیپمین نے کہا کہ انہوں نے اس نوعیت کے جنگلاتی حالات پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ ان کے مطابق طویل خشک سالی اور شدید ہواؤں نے آگ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس کی انفارمیشن آفیسر نکول بونیٹ کے مطابق پیر کی صبح تک بریڈلی کریک کی آگ میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جبکہ کوئلپٹک کریک کی آگ تقریباً 550 ہیکٹر رقبے تک پھیل چکی ہے۔صوبائی وزیر برائے جنگلات روی پرمار نے بتایا کہ جنگلاتی آگ پر قابو پانے میں مدد کے لیے میکسیکو سے 100 فائر فائٹرز پیر کے روز برٹش کولمبیا پہنچ گئے ہیں، جبکہ مزید 200 اہلکار رواں ہفتے کے دوران پہنچیں گے۔
دوسری جانب اوکاناگن انڈین بینڈ کے سربراہ ڈین ولسن نے کہا کہ ابھی تک گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصانات کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ متاثرہ رہائشی کب واپس اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ آگ اب بھی فعال ہے، کئی علاقے اب بھی فائر فائٹرز کے لیے خطرناک ہیں، جبکہ بجلی کی لائنوں، درختوں، انفراسٹرکچر اور پانی کے نظام کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی لوگوں کو واپسی کی اجازت دی جا سکے گی۔
ایٹلین بیکر نے بتایا کہ ان کی رہائش گاہ بھی اب انخلا کے حکم کے دائرے میں آ چکی ہے اور وہ ورنن جا کر دوربین کے ذریعے جھیل کے پار اپنے گھر کی صورتحال دیکھنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا گھر تباہ ہو گیا تو یہ ان کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ گرمیوں میں اسی گھر کو ایئر بی این بی کے طور پر بھی استعمال کرتی ہیں، جو ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔

