اوٹاوا(گلوبل نیوز، خبر ایجنسیاں) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کینیڈا پر زور دیا ہے کہ برٹش کولمبیا کے سکھ کارکن مونندر سنگھ کو ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں کی تحقیقات تیز کی جائیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دھمکیاں ممکنہ طور پر بھارتی حکومت پر تنقید اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے باعث دی گئی ہوں۔
اقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندوں (اسپیشل ریپورٹرز) نے کینیڈین حکومت کو مشترکہ خط ارسال کیا، جس میں مونندر سنگھ اور ان کے اہلِ خانہ کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ معاملہ مختلف ممالک میں سکھ کارکنوں کے خلاف مبینہ سرحد پار دباؤ اور کارروائیوں کے وسیع تر رجحان کا حصہ ہو سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مونندر سنگھ نے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سے متعدد مرتبہ خطاب کیا اور بعض مواقع پر پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی مبینہ قتل کی سازشوں کا وقت ان کی انہی سرگرمیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
خصوصی نمائندوں نے کینیڈا سے مطالبہ کیا کہ مونندر سنگھ اور ان کے خاندان کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے، دھمکیوں کی تحقیقات میں تیزی لائی جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ خط اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندگان بین سول، جینا رومیرو، آندریا بولانوس وارگاس، جارج کاتروگالوس اور نازیلہ غنیہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جو انسانی حقوق سے متعلق مختلف عالمی مینڈیٹس پر کام کرتے ہیں۔
کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے موصول ہونے والے سوالات پبلک سیفٹی کینیڈا کو بھجوا دیے، تاہم خبر شائع ہونے تک وہاں سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
مونندر سنگھ، سکھ فیڈریشن آف کینیڈا کے سربراہ ہیں اور بھارتی حکومت کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں کے ناقد اور خالصتان تحریک کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ کینیڈین پولیس انہیں چار مرتبہ جان کے خطرے سے متعلق قابلِ اعتماد اطلاعات سے آگاہ کر چکی ہے۔
پہلی وارننگ جولائی 2022 میں دی گئی تھی، اسی روز ان کے قریبی ساتھی اور خالصتان کے حامی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو بھی اسی نوعیت کی وارننگ دی گئی تھی۔ بعد ازاں جون 2023 میں ہردیپ سنگھ نجر کو برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں قتل کر دیا گیا، جس کے بارے میں کینیڈین حکام نے بھارت پر شبہ ظاہر کیا، تاہم نئی دہلی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے بعد میں ایک اور کینیڈین خالصتان حامی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے مبینہ قتل کی سازش ناکام بنائی، جس میں بھارتی انٹیلی جنس سے وابستہ ایک شخص کے ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا۔
مونندر سنگھ نے گلوبل نیوز سے گفتگو میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ بھارت ان کی اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں سے ناخوش ہے۔ ان کے مطابق کینیڈین حکومت نے تاحال اس خط کا باضابطہ جواب جمع نہیں کرایا۔
دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت، نئی تجارتی شراکت داریوں کی ضرورت کے پیشِ نظر، بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں بھی کر رہی ہے۔

