جوہانسبرگ (خبر ایجنسیاں)نوبیل انعام یافتہ جنوبی افریقی ماہرِ قانون نوی پلّے نے کہا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جمع کیے گئے شواہد ایسے کئی معیارات کی نشان دہی کرتے ہیں جن کی بنیاد پر غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی کے زمرے میں دیکھا جانا چاہیے۔
ایک انٹرویو میں نوی پلّے نے کہا کہ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شواہد جمع کیے تھے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے سلوک کا مشاہدہ کرنے کے بعد ان کے مطابق ایسے متعدد شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کا جواز موجود ہے۔
نوی پلّے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ کی حیثیت سے شواہد جمع کرنے کے عمل سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر یہ مؤقف پیش کیا۔

