واشنگٹن (رائٹرز) دنیا بھر کے اعلیٰ مالیاتی حکام نے غزہ کی تعمیرِ نو میں امداد فراہم کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا ہے جب کہ ورلڈ بینک اور اقوامِ متحدہ 70 ارب ڈالر کی ایک نئی تخمینہ لاگت کو حتمی شکل دینے کے عمل پر کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی ڈائریکٹر جنرل انگوزی اوکونجو-ایویلا نے کہا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو مشورے دینے والی وزارتی سطح کی ڈیولپمنٹ کمیٹی نے اس عمل میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی واپسی اور انسانی امداد کی فراہمی کے بعد یہ اگلا مرحلہ ہے جسے پُرامن طریقے سے مکمل کرنے کی امید ہے۔
پہلے ہی فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک تین مرحلوں پر مشتمل پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا تھا جس کے لیے 65 ارب ڈالر درکار بتائے گئے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد تباہ شدہ علاقوں کی دوبارہ آبادکاری اور غزہ کو ریاستِ فلسطین کا مربوط اور ترقی پذیر حصہ بنانا ہے۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے اقوامِ متحدہ اور سفارتی حکام سے ملاقاتوں میں اس منصوبے کی تفصیلات اور اس کے نفاذ سے متعلق بین الاقوامی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یورپی یونین، مصر اور اردن کے ساتھ تکنیکی مذاکرات، کسٹمز اور مربوط پولیسنگ یونٹس کی تشکیل جیسے اقدامات پر بات چیت جاری ہے، جبکہ غزہ کی تعمیرِ نو کے بعد حکمرانی کے لیے ایک واحد فلسطینی حکومت کے قیام کے امکانات اور اس کے کردار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

