پیرس (بی بی سی، اے ایف پی، اے پی، رائٹرز) فرانس میں مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور تعلیمی سہولتوں کی ناقص صورتِ حال کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ایک اور روز سیکڑوں ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہروں کے دوران مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے بعد حکام کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ مزدور تنظیموں نے شرکا کی تعداد 8 لاکھ کے قریب بتائی۔ پیرس میں پولیس نے مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار بتائی جبکہ تنظیموں کے مطابق وہاں ڈھائی لاکھ افراد نے ریلی میں شرکت کی۔
حکام نے احتجاج کے دوران بدامنی روکنے کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے تھے، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 10 ہزار زیادہ تھے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے اس مرتبہ صرف تسلیم شدہ مزدور تنظیموں کی جانب سے منعقدہ ریلیوں کی اجازت دی تھی، جبکہ بعض شہروں میں مظاہروں کے لیے پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

پیرس میں پورٹ ڈی اٹالی سے پورٹ ڈی ونسینز تک نکالی گئی ریلی ابتدا میں پُرامن رہی، تاہم اختتام پر نقاب پوش نوجوانوں نے پولیس پر پتھر اور دیگر اشیا پھینکیں اور آتش بازی کا سامان استعمال کیا۔ پولیس نے آنسو گیس، صوتی دستی بموں اور واٹر کینن کے ذریعے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ بعض مظاہرین نے گاڑیوں کے شوروم کے شیشے بھی توڑ دیے۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ ریلی کے آخری حصے میں کئی ہزار شدت پسند کارکن جمع ہوگئے تھے، جن میں تقریباً 500 افراد کو ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے طور پر شناخت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک ہزار گرفتاریاں عمل میں آ چکی ہیں اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر مارسی میں مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا کر سڑکیں بند کیں اور پولیس پر پتھر اور بوتلیں پھینکیں۔ بورڈو میں بعض مظاہرین نے عمارتوں سے حفاظتی تختے اکھاڑ کر رکاوٹیں کھڑی کیں، جبکہ لیون، کلیرمون فیران، اسٹراسبرگ اور دیگر شہروں میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ نائس اور نانت میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن بھی چلائی گئی۔
وزیر داخلہ کے مطابق تولوز اور کلیرمون فیران میں 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کی طرح بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کو روکنے میں اضافی سکیورٹی انتظامات مؤثر رہے، تاہم مختلف شہروں میں محدود پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔

احتجاجی تحریک کا آغاز ستمبر کے وسط میں اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، خستہ حال عمارتوں اور ناکافی تعلیمی سہولتوں کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے ہوا تھا۔ بعد ازاں مزدور تنظیمیں، اساتذہ اور والدین بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ مظاہرین بہتر تعلیمی سہولتوں، مزید اساتذہ، طلبہ کے لیے مالی معاونت، کرایوں میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پیرس میں احتجاج کرنے والی 26 سالہ خاتون زیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ صدر میکرون کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مشکلات اور مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق عوام بھاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اپنے مسائل پر آواز اٹھانے کا موقع نہیں پاتے۔ نوجوان مظاہرین نے بھی کہا کہ غربت اور پولیس کے سخت رویے نے لوگوں کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے فرانس میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی تھی، جو بعد میں ملک کے کئی شہروں میں بدترین بدامنی میں تبدیل ہوگئے۔ اس دوران 2 ہزار 700 سے زائد افراد گرفتار ہوئے، جبکہ 2 ہزار سے زیادہ دکانوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹا گیا۔ تجارتی تنظیموں نے مالی نقصان کا تخمینہ سیکڑوں ملین یورو لگایا تھا۔ ان واقعات میں پولیس کے ہجوم کو منتشر کرنے والے دستی بم سے ایک مظاہرہ کرنے والے کا ہاتھ بھی ضائع ہوگیا تھا۔
فرانس کے علاوہ ہفتے کے روز یورپ کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اٹلی کے شہر میلان میں ممکنہ بدامنی روکنے کے لیے پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
فرانس میں احتجاجی تحریک ایسے وقت جاری ہے جب صدارتی انتخابات میں تقریباً 6 ماہ باقی ہیں۔سیاسی رہنماؤں نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی ذمہ داری صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت پر عائد کرنا شروع کر دی ہے۔

