فرانس میں بدامنی پر حکومت کا سخت اقدام، بعض علاقوں میں کرفیو، ہنگامی حالت کے نفاذ کا امکان

پیرس (رائٹرز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس) فرانس میں پُرتشدد مظاہروں، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے بعد حکومت نے بعض علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت کر دی، جبکہ وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق ملک میں ہنگامی حالت بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔

پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت امن و امان کی بحالی کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پورے پیرس میں کرفیو نافذ کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں میں محدود پابندیاں زیادہ مناسب ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرفیو مقامی اور جزوی نوعیت کے ہونے چاہئیں اور پورے پیرس میں مکمل کرفیو نافذ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔

وزیراعظم نے یہ نہیں بتایا کہ کن شہروں یا علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جائے گا اور اس کی عملی صورت کیا ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر صورتِ حال کے پیش نظر ہنگامی حالت ضروری سمجھی گئی تو اس امکان پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے واضح کیا کہ منگل کی شام پیرس سینٹ جرمین اور بارسلونا کے درمیان ہونے والا فٹ بال میچ منسوخ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

فرانس کے بڑے شہروں کے میئرز نے حکومت سے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اختتامِ ہفتہ ہونے والے ہنگاموں کے دوران سکیورٹی فورسز کی تیاری اور کارروائیوں میں سامنے آنے والی خامیوں کا جواب دیا جائے۔ ملک بھر میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور کاروباری مراکز کو پہنچنے والے نقصان کے بعد حکام امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

فرانس میں احتجاج کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری طلبہ مظاہروں کے بعد شدت اختیار کر گیا، جن کے دوران وقفے وقفے سے سڑکوں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آتے رہے۔ تازہ ہنگاموں نے ملک کی سیاسی صورتِ حال پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ آئندہ صدارتی انتخابات سے چھ ماہ قبل حکومت کو سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کمزور معیشت اور بڑھتے ہوئے قومی قرضوں کے باعث بھی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔