پیرس(علی اشفاق سے) فرانس میں طلبہ کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کرگئی، پیرس سمیت کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔پیرس کے معروف لائسِے ہنری چہارم کے باہر درجنوں طلبہ جمع ہوگئے، جبکہ شمال مغربی شہر رین میں بیکینی ہائی اسکول کے قریب طلبہ اور پولیس آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

پیرس میں تقریباً ایک ہفتے سے جاری احتجاج میں طلبہ نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، تعلیمی وسائل کی قلت اور بھری کلاسوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔طلبہ کا مطالبہ ہے کہ غیر حاضر اساتذہ کی جگہ فوری طور پر متبادل اساتذہ فراہم کیے جائیں اور تعلیمی اداروں کے لیے مزید وسائل مختص کیے جائیں۔
فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق بدھ کے روز فرانس بھر میں 356 تعلیمی ادارے طلبہ کے احتجاج سے متاثر ہوئے، جس کے باعث مختلف مقامات پر تعلیمی سرگرمیاں متاثر رہیں۔فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کے دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

طلبہ تحریک میں یونیورسٹیاں بھی شامل ہوگئی ہیں اور 30 سے زائد جامعات کے کیمپس احتجاج سے متاثر ہوئے ہیں۔یکم اکتوبر کو احتجاج کے دوران تقریباً 2 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 305 سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
احتجاج کے شدت اختیار کرنے پر فرانسیسی حکومت نے بحران سے متعلق اجلاس طلب کرلیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔احتجاجی طلبہ کے خلاف بعض علاقوں میں اسکولوں کے اطراف مظاہروں پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔طلبہ تحریک کے منتظمین نے احتجاج کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے 6 اکتوبر کو نئی ملک گیر کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

