فرانس:مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف ملک گیر احتجاج، ہزاروں افراد سڑکوں پرآگئے

پیرس (رائٹرز، اے ایف پی) فرانس میں مہنگائی، کم اجرتوں، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ہفتے کے روز ملک بھر میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، جبکہ پیرس میں پولیس نے صدارتی محل کے قریب غیر مجاز اجتماع روکنے کے لیے کارروائی کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مسلسل چوتھا ہفتہ ہے جب ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ حکام نے ہفتے کے احتجاج میں ملک بھر میں ایک لاکھ 70 ہزار افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا تھا، تاہم وزارتِ داخلہ کے مطابق ہفتے کی دوپہر تک ملک بھر میں تقریباً 7 ہزار مظاہرین سڑکوں پر آئے تھے۔

احتجاجی تحریک کا آغاز ستمبر کے اواخر میں طلبہ نے تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور تعلیمی نظام کے مسائل کے خلاف کیا تھا، تاہم بعد ازاں اس میں مزدور تنظیمیں، سرکاری ملازمین اور دیگر شہری بھی شامل ہوگئے۔ مظاہرین اب کم اجرتوں، بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور عوامی خدمات کے بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔

اس سے قبل 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی۔ مزدور تنظیموں نے شرکا کی تعداد 16 لاکھ بتائی، جبکہ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق مظاہرین کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 75 ہزار تھی۔ اس روز پیرس میں ایفل ٹاور بھی ہڑتال کے باعث بند رہا، جبکہ بعض شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔

فرانس کی بڑی مزدور تنظیموں نے تنخواہوں میں اضافے اور حکومت کے مجوزہ بجٹ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے پیر 9 نومبر کو مزدور تنظیموں اور کاروباری اداروں کے نمائندوں سے ملاقات طے کی ہے، تاہم طلبہ اور اساتذہ کی تنظیموں نے آئندہ ہفتے مزید ہڑتالوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

حکومت کو ایک طرف عوامی احتجاج اور دوسری جانب بڑھتے ہوئے قومی قرضوں اور بجٹ خسارے کے باعث مالی دباؤ کا سامنا ہے۔