ریاض (عرب میڈیا) سعودی عرب کے ایک حکومتی عہدیدار نے کہا ہے کہ مملکت برادر ملک عراق کی حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہاں ہے اور حالیہ فضائی حملے عراقی عوام یا حکومت کے خلاف نہیں تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومتی عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ فضائی کارروائیوں میں صرف مسلح ملیشیا گروپوں کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عراق میں سرگرم مسلح ملیشیا گروپ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے تھے اور انہوں نے مملکت کے اہم شہری و اقتصادی ڈھانچے، خصوصاً پٹرولیم تنصیبات، کو نشانہ بنایا۔
سعودی عہدیدار کے مطابق فضائی حملے صرف ان عسکری گوداموں تک محدود تھے جہاں سے سعودی عرب کے اہم مقامات اور پٹرولیم تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا یہ ردعمل کئی ماہ تک انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد سامنے آیا، جبکہ دہشت گرد ملیشیا نہ صرف عراق کے مفادات بلکہ عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سعودی عہدیدار نے مزید کہا کہ یہ ملیشیا گروپ عراق کی سرزمین اور وسائل کو پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور عراق کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔

