فلسطینی مہاجرین اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے ملاقاتیں جاری رکھیں گے:اقرا خالد

عمان/یروشلم(سی بی سی نیوز، نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز)مسی ساگا ایرن ملز سے کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں داخلے سے روکے جانے کے باوجود ان کا مشن نہیں رکا اور وہ مہاجرین اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کی کہانیاں کینیڈا واپس لے جا سکیں۔ اقرا خالد نے اپنے تازہ بیان میں کہا: “ہم سننے کیلئےآئے تھے ہمیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر اس سے ہمارا کام نہیں رکا۔ ہم مہاجرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی کہانیاں اپنے ساتھ وطن لے جائیں گے۔”

واضح رہے کہ اقرا خالد سمیت کینیڈا کے 30 افراد پر مشتمل ایک وفد کو اسرائیل نے اردن کے ایلنبی بارڈر کراسنگ کے راستے مغربی کنارے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ وفد میں چھ کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ اور دیگر سول سوسائٹی کے نمائندے شامل تھے۔ وفد سے ایک فارم پر دستخط کا مطالبہ کیا گیا تھا جس میں خود کو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ تسلیم کرنے کا اقرار شامل تھا، تاہم وفد نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔

وفد میں ارکانِ پارلیمنٹ میں لبرل پارٹی کے سمیر زبیری، فارس السعود، اسلم رانا، اقرا خالد، گربکس سینی اور نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن جینی کوان شامل ہیں۔ وفد کا مقصد فلسطینی مہاجرین، سول سوسائٹی، انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور فلسطینی حکام سے ملاقاتیں کرنا تھا، جو یروشلم، جنین، الخلیل اور مختلف مہاجر کیمپوں میں طے تھیں۔

بیان کے مطابق وفد کے تمام اراکین محفوظ ہیں اور اردن میں قیام کے دوران مہاجرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملاقاتیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے بعد وہ کینیڈا واپس روانہ ہوں گے۔