فیصل آباد میں صنعتکار ریحان اشرف کے قتل کی تحقیقات میں تیزی، 6 افرادگرفتار

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) فیصل آباد میں صنعتکار ریحان اشرف کے قتل کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے تفتیش کے سلسلے میں 6 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں 3 فیکٹری ملازمین اور 3 کلب کی پارکنگ کے اہلکار شامل ہیں۔ پولیس نے قتل کی تحقیقات کے لیے 12 مشترکہ ٹیمیں بھی تشکیل دے دی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ریحان اشرف ہفتے کی رات اہلِ خانہ اور دوستوں کے ہمراہ کھانے کے لیے گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنی گاڑی کی چابی کلب کے پارکنگ عملے کے حوالے کی۔ کچھ دیر بعد ان کے موبائل فون پر گاڑی کے چلنے اور بند ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تو وہ باہر کی جانب دوڑے، تاہم اس وقت تک گاڑی وہاں سے جا چکی تھی۔

مقدمے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ریحان اشرف اپنے 2 بھائیوں اور ایک دوست کے ہمراہ دوسری گاڑی میں سوار ہو کر مسروقہ گاڑی کے تعاقب میں نکلے۔ جڑانوالہ روڈ پر تقریباً 4 سے 5 کلومیٹر دور ٹریفک کے رش میں انہیں اپنی گاڑی دکھائی دی۔ وہ گاڑی کے قریب پہنچے تو اس میں سے 2 مسلح افراد باہر نکلے اور فائرنگ کر دی۔ گولی ریحان اشرف کی گردن میں لگی، جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

پولیس نے کلب کی پارکنگ کے 3 اہلکاروں اور صنعتکار کی فیکٹری کے 3 ملازمین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ پولیس کے مطابق پارکنگ کے ایک اہلکار نے دورانِ تفتیش بتایا کہ گاڑی کھڑی کرنے کے دوران ایک مسلح شخص پچھلی نشست پر آ کر بیٹھ گیا اور اسے زبردستی گاڑی لے جانے کا حکم دیا۔

ریحان اشرف کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کر دی گئی ہے۔ واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سی پی او فیصل آباد تنویر حسین نے بتایا کہ صنعتکار کے قتل کی تحقیقات کے لیے سی سی ڈی اور ضلعی پولیس کی مشترکہ طور پر 12 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ تفتیش میں نگرانی کیمروں کی فوٹیج اور گاڑیوں کے کھوج لگانے والے آلات سے مدد لی جا رہی ہے۔

تنویر حسین کے مطابق گاڑی چوری سمیت قتل کے دیگر ممکنہ محرکات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں جیو فینسنگ بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔