اوٹاوا(نمائندہ خصوصی،ٹورنٹو اسٹار، سی بی سی نیوز،ریڈیو کینیڈا)کینیڈا کی وفاقی لبرل پارٹی نے کنزرویٹو رہنما پیئر پولیئور (Pierre Poilievre) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) کی آزادی اور دیانت پر سوال اٹھانے پر معافی مانگیں، جب کہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قومی پولیس نے لبرل حکومت کو تحفظ دینے کیلئے”چھپانے” کا کردار ادا کیا۔
گزشتہ ہفتے یوٹیوب چینل نادرن پرسپیکٹو (Northern Perspective) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پولیئورنے کہا کہ سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے قانون کی خلاف ورزی کی جب انہوں نے 2016 میں آغا خان کی جانب سے مفت چھٹیاں قبول کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعظم نے SNC-لاولن اسکینڈل میں بھی “شاید قانون توڑا”۔
“پولیئور کے مطابق”
“اگر آر سی ایم پی نے اپنا کام کیا ہوتا اور ٹروڈو کو تحفظ نہ دیا ہوتا، تو انہیں مجرمانہ طور پر چارج کیا جا چکا ہوتا۔ آر سی ایم پی کی قیادت کا طرزِ عمل لبرل حکومت کے حوالے سے شرمناک ہے۔”
پیر کے روز پارلیمنٹ میں ہونے والے سوال و جواب کے دوران، لبرل ہاؤس لیڈر اسٹیو میک کینن (Steve MacKinnon) نے اپوزیشن لیڈر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں کھڑے ہو کر اپنی بات واپس لیں اور معافی مانگیں۔
انہوں نے کہا“اپوزیشن لیڈر نے عدلیہ، استغاثہ، اور پولیس کی آزادی پر سوال اٹھایا ہے، ان اہلکاروں کی جن کی بدولت وہ خود محفوظ ہیں۔ اپنی بات واپس لے کر معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ ہم کینیڈا میں ایسا نہیں کرتے۔”
پالیئور نے ایوان میں معافی نہیں مانگی اور لبرلز پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بعد ازاں، ان کے دفتر سے جاری ایک تحریری بیان میں پولیئور نے کہا”میں ان بہادر مرد و خواتین کے ساتھ کھڑا ہوں جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔ میں ان خدمات پر تہہ دل سے مشکور ہوں۔”
تاہم انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے دراصل سابق آر سی ایم پی کمشنر برینڈا لکی (Brenda Lucki) کے بارے میں تھے، جن پر انہوں نے “حکومتی مفاد کیلئے سیاسی مداخلت، غلط بیانی اور اسکینڈلز چھپانے” کے الزامات لگائے۔
“دیگر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل”
گرین پارٹی کی رہنما الزبتھ مے (Elizabeth May) نے پالیئور کے تبصروں کو “خطرناک””قرار دیتے ہوئے کہا”یہی کچھ اس وقت ٹرمپ کے امریکا میں ہو رہا ہے، جہاں سیاسی مخالفین کو قانون کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ رویہ کینیڈین سیاست میں قابلِ قبول نہیں۔”
سابق وزیرِاعظم اسٹیفن ہارپر کے مشیر رہ چکے دیمیتری سوداس (Dimitri Soudas) نے ٹورنٹو اسٹار میں شائع ایک مضمون میں کہا کہ پولیئور “اس اصولی اور قابلِ اعتماد کنزرویٹو پارٹی کو ختم کر رہے ہیں جو ہم نے قائم کی تھی۔” تاہم ہارپر کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ مضمون ہارپر کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔
“پارٹی کا اندرونی ردعمل”
تنقید کے بعد، اپوزیشن لیڈر کے دفتر نے پیر کو کنزرویٹو ارکانِ پارلیمنٹ کو ہدایت جاری کی کہ وہ عوامی بیانات میں آر سی ایم پی کے کردار کو مثبت طور پر اجاگر کریں۔
ٹورنٹو اسٹار، سی بی سی نیوز اور ریڈیو کینیڈا کے مطابق، اراکین کو فراہم کیے گئے ٹاکنگ پوائنٹس میں کہا گیا کہ“کنزرویٹو پارٹی آر سی ایم پی کے کام کی قدر کرتی ہے اور انتخابی منشور میں اس کیلئے اضافی وسائل فراہم کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔ تاہم، سابق کمشنر برینڈا لکی نے عوام کو گمراہ کیا اور حکومت کے حق میں کام کیا، اسی وجہ سے ہم نے 21 اکتوبر 2022 کو ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔”
آر سی ایم پی نے ایک مرتبہ پھر وضاحت کی ہے کہ SNC-لاولن کیس میں الزامات عائد کرنے کیلئے”ناکافی شواہد”موجود تھے — وہی معاملہ جس نے 2019 میں پارلیمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

