سیوٹا، اسپین (ایسوسی ایٹڈ پریس، خبر ایجنسیاں)شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خود مختار علاقے سیوٹا میں مراکش سے صرف 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 60 ہزار تارکین وطن داخل ہوگئے، جس کے نتیجے میں شدید افراتفری، انسانی بحران اور کم از کم 57 افراد ہلاک ہوگئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سیوٹا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے بتایا کہ ایک ہی دن میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد شہر کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہے۔ہسپانوی حکام کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کے بعد بیشتر تارکین وطن رضاکارانہ طور پر واپس مراکش چلے گئے جبکہ جمعہ کی شام تک تقریباً 48 ہزار 300 افراد واپس جا چکے تھے اور مزید افراد کی واپسی کا سلسلہ جاری تھا۔

رپورٹ کے مطابق متعدد تارکین وطن نے سمندر میں کئی میل تیر کر اسپین پہنچنے کی کوشش کی جبکہ سیکیورٹی فورسز نے انہیں روکنے کیلئے واٹر کینن، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا۔ ہلاک ہونیوالوں میں بعض سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کئی افراد سرحدی رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ میں جان کی بازی ہار گئے۔
صورتحال پر قابو پانے کیلئے اسپین نے سیوٹا میں فوج اور اضافی پولیس اہلکار تعینات کر دیے جبکہ مراکش کی جانب بھی سیکیورٹی فورسز اور تارکین وطن کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسپین کے دوسرے شمالی افریقی علاقے میلیلا میں بھی متعدد افراد نے داخل ہونے کی کوشش کی جہاں پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سیوٹا کا دورہ کرتے ہوئے سرحد کی خلاف ورزی کو اسپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ انسانی اسمگلروں نے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اس بحران کو جنم دیا، جس کے باعث بہت سے افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے کہا کہ سیوٹا سے سامنے آنے والے مناظر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطرناک غیر قانونی سمندری سفر فوری طور پر روکا جائے، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے اور یورپی قوانین کے مطابق غیر قانونی طور پر آنے والوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
رپورٹ کے مطابق سیوٹا اور میلیلا کی صورتحال کے اثرات یورپ کے دیگر ممالک تک بھی پہنچے، جہاں اٹلی نے اسپین کے ساتھ سرحدی نگرانی دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا جبکہ فرانس نے بھی اسپین سے آنے والوں کی جانچ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہسپانوی حکام نے حالیہ بحران کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے بھی جوڑا ہے، جس میں سمندر کے راستے پہنچنے والے تارکین وطن کی فوری بے دخلی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق انسانی اسمگلروں نے اس فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں کو اسپین جانے پر آمادہ کیا۔
ادھر مراکش کی حکومت نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم اسپین میں مراکش کی سفیر کریمہ بن یائچ نے کہا کہ مراکش ہمیشہ قانونی، منظم اور محفوظ ہجرت کا حامی رہا ہے۔

