مرکوسور تجارتی معاہدے کے خلاف کسانوں کا احتجاج، ٹریکٹروں سے برسلز کی سڑکیں بند

برسلز(فہیم النبی سے)یورپی یونین اور جنوبی امریکا کے ممالک کے درمیان مجوزہ مرکوسور تجارتی معاہدے کے خلاف ہزاروں کسانوں نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں ٹریکٹروں سے بند کر دیں۔ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یورپی یونین کے رہنما ایک اہم سربراہی اجلاس کے لیے جمع تھے جہاں معاہدے کے مستقبل پر فیصلہ متوقع ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق شہر کے مرکزی علاقوں میں 150 سے زائد ٹریکٹر داخل ہوگئے جبکہ یورپی کوارٹر میں تقریباً 10 ہزار مظاہرین کی موجودگی متوقع تھی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپ کو جنوبی امریکا سے سستی زرعی اجناس سے بھر دے گا جس سے مقامی کسانوں کا روزگار تباہ ہو جائے گا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس پر آلو اور انڈے پھینکے، پٹاخے چلائے اور ٹریفک مکمل طور پر جام ہو گئی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا جبکہ کئی سرنگیں اور سڑکیں بند کر دی گئیں۔

کسانوں کے مطابق برازیل اور دیگر جنوبی امریکی ممالک سے آنے والا گوشت، چینی، چاول، شہد اور سویابین یورپی منڈی میں سستے داموں فروخت ہوں گے کیونکہ وہاں زرعی قوانین، خاص طور پر زرعی زہروں کے حوالے سے، یورپی یونین کے مقابلے میں نرم ہیں۔

بیلجیئم کے ایک ڈیری کسان نے کہا کہ وہ مرکوسور معاہدے کو مسترد کرنے آئے ہیں اور یورپی کمیشن پر الزام لگایا کہ وہ کسانوں کی رائے کے بغیر یہ معاہدہ زبردستی منظور کرانا چاہتا ہے۔

فرانس اور اٹلی نے معاہدے کی کھل کر مخالفت کی ہے جبکہ فرانس نے پولینڈ، بیلجیئم، آسٹریا اور آئرلینڈ کے ساتھ مل کر اسے مؤخر کرانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دوسری جانب جرمنی اور اسپین معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں اور اسے یورپی یونین کے لیے عالمی تجارت میں اہم قرار دے رہے ہیں۔یہ معاہدہ 25 برسوں میں طے پایا ہے اور اس کے تحت دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی زون قائم ہو سکتا ہے، تاہم کسانوں کے شدید احتجاج کے باعث اس کی منظوری خطرے میں پڑ گئی ہے۔