مقدس اور معزز کتے۔۔۔

کالم کا عنوان کسی مقدس ہستی پر حملہ نہیں ہے۔ یہ تو ان ”تحفظ یافتہ کتوں“ کے احترام میں لکھا گیا ہے کہ جن کو ہماری حکومتیں، ہماری اشرافیہ، ہماری این جی اوز اور ہماری مقدس عدلیہ سب مل کر تحفظ دے رہے ہیں، اچھی بات ہے جانوروں کو تحفظ دینا چاہئے، لیکن کیا یہ تحفظ کسی انسانی جان کی قیمت پر دیا جانا چاہئے؟ کیا یہ تحفظ سفید پوشوں، غریبوں اور مڈل کلاس والوں کے بچوں بزرگوں کی قیمت پر ہونا چاہئے؟ کیا یہ تحفظ صبح فجر کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد جانے والے ہمارے بزرگوں کو کتوں کے حوالے کرنے کے لئے دیا جانا چاہئے؟ یقینا ایسا نہیں ہونا چاہئے لیکن ایسا ہورہا ہے اور یہ تحفظ ہماری حکومت دے رہی ہے ورنہ عید کے اگلے ہی دن ٹاؤن شپ کی آٹھ سالہ مہر کتے کے کاٹنے سے اس دنیا سے رخصت نہ ہوتی۔ بند روڈ یتیم خانہ کی 75سال آمنہ بی بی آوارہ کتوں کے حملے میں شدید زخمی ہو کر ہسپتال نہ پہنچتی۔ تحصیل سمبڑیال (سیالکوٹ) کا چار بچوں کا باپ یاسر خان کتوں کے کاٹنے سے اپنے بچوں کو اِس دنیا میں بے سہارا چھوڑ کر نہ جاتا۔ نومبر 2024ء میں پاتھی گراؤنڈ کا 14 سالہ ریحان کتے کے کاٹنے سے ہسپتال میں تڑپ تڑپ کر نہ مرتا۔ باغ جناح میں آوارہ کتوں کے حملے میں 6 مور ہلاک اور 4زخمی نہ ہوتے۔ یہ صرف چند واقعات ہیں ورنہ تعداد توبہت زیادہ ہے اور ”حکومتی تسلیم شدہ“ ہے۔ ٹاؤن شپ میں معصوم مہر کی ہلاکت کے بعد ضلعی انتظامیہ کا جواب تھا ”ہم مجبور ہیں، ہمارے ہاتھ عدلیہ نے باندھ رکھے ہیں، کتوں کو مار نہیں سکتے، ہمیں روکا گیا ہے“ جبکہ بلدیہ عظمیٰ لاہور جس کا کام پہلے ان کتوں کو مارنا اور اب پکڑ کر ویٹرنری حکام کے حوالے کرنا ہے تاکہ وہ ان کی نس بندی کر کے ویکسین لگا آزاد کریں، وہ اپنا کام کرنے کو تیار نہیں، نہ کتا پکڑنا آتا ہے، نہ پکڑا جا رہا ہے، 45 – 50 سال کا اہلکار کیسے ایک طاقتور کتے کو پکڑ کے ڈاگ سینٹر پہنچائے گا، لیکن کروڑوں کا جو فنڈ موجود ہے وہ کیسے خرچ ہوگا؟ اسکا کوئی جواز بنا ہی لیا جائے گا۔

کتے نہ مارنے کاحکم بھی تو ہماری اشرافیہ نے دلوایا ہے۔ جو غیرملکی فنڈنگ سے پاکستان میں این جی اوز چلا رہی ہے۔ بیرون ملک سے ”حاصل ہونے والے“ ڈالرز، یوروز اور پاؤنڈز سے پاکستان میں غیرملکی ایجنڈا پورا کر رہی ہے۔ کیا ہم اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ ہم 50 – 60 لاکھ کتوں کو پکڑیں، ڈاگ سینٹر لیکر جائیں، جہاں پہلے ان کی ”نس بندی“ کر کے (مزید بچے پیدا کرنے سے روکیں) پھر ویکسین لگائیں تاکہ انکے کاٹنے سے انسان کو ریبیز نہ ہو اور پھر ان کو ”باعزت رہا کردیا جائے“ کہ جاؤ اب جا کر کاٹو، اب تمہارے کاٹنے سے زخم تو آئے گا ریبیز نہیں ہو گی۔ یہ ہے وہ پالیسی جو ہماری حکومت نے اشرافیہ کے مجبور کرنے، زور دینے پر بنائی، کیونکہ اشرافیہ بھی تو ”حکمرانوں کی اپنی ہے“۔ جن لوگوں نے فیصلے کئے، کتوں کو تحفظ دیا وہ 10-10 فٹ بلند دیواروں کے اندر رہتے ہیں۔ان کی آبادی کے گیٹ سے ”کسی کتے“ کا داخلہ ممکن نہیں ہے، کیونکہ وہاں دو، دو نہیں، بلکہ چار، چار، آٹھ، آٹھ چوکیدار بندوقیں اُٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی کتا نظر آجائے تو ”ہش“ کرنے کے بجائے گولی مار سکتے ہیں تاکہ ”بڑے صاحبان“ اور ان کے بچے محفوظ رہیں۔ بڑے صاحبوں اور ان کے بچوں کو دفتر، سکول، کالج جانے کے لئے بڑی بڑی سرکاری گاڑیاں ہیں جن میں ٹینکوں کی جسامت کی بلٹ پروف سرکاری گاڑیوں بھی ہیں تاکہ بڑے صاحبان بحفاظت اپنے اپنے دفاتر پہنچ سکیں۔ ان کا خاندان تو ”کتوں سے“ محفوظ ہو گیا، لیکن عام آدمی اور اس کا بچہ کہاں جائے۔ وہ صبح دفتر یا دکان پر جاتے ہوئے اگر بچے کو سکول چھوڑ بھی جائے تو بچے نے واپس گھر بھی تو جانا ہے۔ چند کمروں کے سکولوں میں ”مہنگی اور جعلی انگلش میڈیم تعلیم“ پانے والے یہ بچے گھر واپس جاتے ہوئے کتوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہ بچے جن کے پاس کھیلنے کے لئے کوئی گراؤنڈ نہیں، جب کھیل کود کے لئے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو پھر ”کتا منتظر“ ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں 55 ہزار جبکہ کچھ واقفان حال کے مطابق شہر میں ایک لاکھ تک کتے موجود ہیں جو کسی پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

دنیا میں ہر سال کتوں کے کاٹے سے پھیلنے والی بیماری ریبیز سے 55 ہزار افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، جن میں سے 95 فیصد کا تعلق ایشیا اور افریقہ سے ہے۔ ان 55 ہزار میں سے 4 سے 5 ہزار پاکستانی ہوتے ہیں جو پاکستان میں موجود 40 سے 50 لاکھ آوارہ کتوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ لاہور میں تین سال پہلے آوارہ کتوں کی تعداد 50 ہزار بتائی گئی تھی۔لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی گئی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق جنوری 2024ء سے مارچ 2026ء کے درمیان پنجاب میں پانچ لاکھ 14 ہزار لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹا۔ 2024ء میں دو لاکھ 32704، 2025ء میں دو لاکھ 43 ہزار 299 اور رواں سال کے اولین تین ماہ میں 78 ہزار 506 افراد کو کتے اپنا شکار بناچکے ہیں۔ پنجاب میں سب سے زیادہ کتے کے کاٹے کے واقعات ڈیرہ غازیخان اور اس کے بعد رحیم یار خان میں ہوتے ہیں۔

ٹاؤن شپ میں چھ سالہ مہر کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ مہر کے گھر گئے اور اس کے والد قیصر مسیح کو نوکری دینے کا اعلان کیا، پانچ لاکھ روپے کا چیک بھی دیا اور ایک دو رکنی کمیٹی بنائی جس کو یہ کام سونپا گیا کہ وہ عدالت عالیہ سے رجوع کریں اور ان سے درخواست کریں کہ کتوں کی ہلاکت کے خلاف دیا گیا حکم امتناعی واپس لیں۔

حالانکہ اٹارنی جنرل پاکستان عدالت عالیہ میں پیش ہوکر التجا کرسکتے ہیں کہ کتوں کی نس بندی کا عمل بھی چلتا رہیگا لیکن ان کی تعداد اس خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے کہ ان کو مارنا مجبوری ہو چکا ہے ورنہ بچے مرتے رہیں گے۔ ترقی یافتہ امیر ممالک میں آوارہ کتے نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ وہاں جو بھی کتا ہے وہ پالتو ہے اور پالتو کتے کو قانون کے مطابق گھر میں رکھا جاتا ہے۔ اس کی ویکسی نیشن کرائی جاتی ہے، گلے میں پٹہ ڈالا جاتا ہے اور دیگر تمام قانونی تقاضے پورے کئے جاتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ ایک ماں ہیں ان سے التماس ہے کہ ان بچوں اور بزرگوں کی موت کا نوٹس لیں جو کتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ہماری اشرافیہ تو اپنے دفتر اور گھر کی چار دیواری میں اس وحشی جانور سے محفوظ ہے۔ جو درحقیقت بھیڑیے کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی بھیڑئیے کی نسل سے تعلق رکھنے والے کتوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ ان کو ویکسین لگا بھی دی جائے تو بھی یہ کاٹنا نہیں چھوڑیں گے۔ علاج ایک ہی ہے آوارہ کتے ختم کر دئیے جائیں یا ان 40 – 50 لاکھ کتوں کو ”زندہ یا کاٹ“ کر ان ممالک کو بھیج دیا جائے جہاں انہیں شوق سے کھایا جاتا ہے، یقینا ہمارا کچھ قرضہ ہی اتر جائیگا۔