ملٹن (اشرف خان لودھی سے)شہر کی ترقی کس سمت میں ہونی چاہیے، بڑھتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس پر قابو کیسے پایا جائے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ شہری سہولیات کو کس طرح بہتر بنایا جائے؟ کینیڈا کے شہر ملٹن میں 26 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں میئر کے امیدواروں کو ان سوالات کا سامنا ہے۔ میئر کی ایک نشست کے لیے 10 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جن میں موجودہ میئر گورڈ کرانٹز کے علاوہ پاکستانی اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے امیدوار بھی شامل ہیں۔
انتخابی مہم میں امیدوار اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق شہری مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں۔ کہیں ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ کم کرنے کی بات ہو رہی ہے، تو کہیں سستی رہائش، ٹریفک، عوامی آمدورفت، کاروباری ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان مختلف مؤقف کے درمیان بنیادی سوال یہ ہے کہ کون سا امیدوار ملٹن کے مستقبل کے لیے قابل عمل منصوبہ پیش کرتا ہے اور شہریوں کا اعتماد حاصل کر پاتا ہے۔
“انتخابی مباحثے میں شہری مسائل نمایاں”
کیمبل ویل کمیونٹی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ انتخابی مباحثے میں 7 امیدواروں نے شرکت کی، جبکہ 100 سے زائد مقامی شہری ان کے خیالات سننے کے لیے موجود تھے۔ مباحثے میں امیدواروں نے شہر کے مالی معاملات، شہری تحفظ، ٹریفک، رہائش، کاروباری سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں پر اپنے مؤقف بیان کیے۔
پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا معاملہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ بعض امیدواروں نے بلدیاتی اخراجات میں شفافیت اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دیگر نے مستقبل کی معاشی ضروریات، رہائشی منصوبوں اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔
یہ مباحثہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس میں امیدواروں کو اپنے انتخابی وعدے براہ راست شہریوں کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔ تاہم مباحثے میں شریک نہ ہونے والے امیدواروں کے بارے میں ان کی عدم شرکت کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
“موجودہ میئر گورڈ کرانٹز کے سامنے تبدیلی کا مطالبہ”
گورڈ کرانٹز نے اپنے تجربے، بلدیاتی انتظامیہ میں تسلسل اور اعلیٰ حکومتی سطح پر روابط کو اپنی نمایاں خصوصیات کے طور پر پیش کیا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں یہ فیصلہ کونسل کی اکثریت نے کیا تھا۔
دوسری جانب جارج میناکاکس نے اپنے کاروباری اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر مستقبل کے مالی چیلنجز کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے سے شہر کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
شیز امون نے شہریوں کے مسائل سننے، مذاکرات کے ذریعے ان کا حل تلاش کرنے اور ماحول دوست ملٹن کی تشکیل پر زور دیا۔ انتخابی مباحثے میں ملیحہ احمد، عبدالکریم اکبک اور ارجن جوشی شریک نہیں ہوئے۔
موجودہ میئر کے تجربے اور نئے امیدواروں کے تبدیلی سے متعلق وعدوں کے درمیان ووٹرز کے لیے اہم ہوگا کہ وہ سابقہ کارکردگی کے ساتھ آئندہ منصوبوں کی عملی حیثیت کا بھی جائزہ لیں۔
“ندیم اکبر، سمیرا علی اور آصف خان کی ترجیحات”
پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹیز سے وابستہ امیدواروں میں ندیم اکبر نے بلدیاتی مالیاتی نظام کو اپنی انتخابی گفتگو کا اہم موضوع بنایا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری شعبوں کو اپنے سالانہ اخراجات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنی چاہئیں تاکہ ٹیکس دہندگان کو معلوم ہو کہ ان کی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے گزشتہ 4 سال کے دوران پراپرٹی ٹیکس میں مجموعی طور پر 34.7 فیصد اضافے کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔
سمیرا علی نے شہریوں کی روزمرہ ضروریات اور بنیادی سہولیات پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے نزدیک ٹریفک کی روانی، تیز رفتار گاڑیوں سے تحفظ، فٹ پاتھوں کی دستیابی، فائر سروسز اور عوامی آمدورفت میں بہتری ایسے معاملات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ شہریوں کو اپنے ادا کردہ ٹیکس کے مقابلے میں بہتر خدمات ملنی چاہئیں۔
آصف خان نے مالی بوجھ کم کرنے، کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے رہائش کے مواقع بڑھانے اور بڑے کاروباری اداروں کو ملٹن میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے سرکاری اور کاروباری شعبوں میں اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے ایسی قیادت کی ضرورت بیان کی جو اپنے منصوبوں کے نتائج سامنے لائے۔
“زینب عظیم کا زور زرعی زمین اور ماحول کے تحفظ پر”
زینب عظیم نے ملٹن میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ قدرتی ماحول اور زرعی زمینوں کے تحفظ کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے پتھر اور بجری نکالنے کے لیے نئی کانوں کے منصوبوں، بڑے مصنوعی ذہانت کے مراکز اور بے ہنگم تعمیرات پر تحفظات ظاہر کیے۔
ان کا مؤقف ہے کہ شہر کی ترقی کے فیصلوں میں مقامی آبادی کی رائے کو مناسب اہمیت ملنی چاہیے اور ایسے منصوبوں پر توجہ دی جانی چاہیے جن سے ماحولیات اور رہائشی علاقوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو۔
زینب عظیم کے پاس امریکا میں معروف سیاست دانوں کی انتخابی مہم میں کام کرنے کا تجربہ بھی ہے۔ ان کی انتخابی سرگرمیوں میں ان کے والدین حصہ لے رہے ہیں جبکہ رضاکاروں کی ٹیم گھر گھر رابطوں اور اجتماعات کے ذریعے ان کا پیغام شہریوں تک پہنچانے میں مصروف ہے۔ ان کی ٹیم انتخابی کامیابی کے لیے پُرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ ووٹرز ہی کریں گے۔
“کیا متعدد پاکستانی امیدوار انتخابی صورت حال پر اثر ڈالیں گے؟”
میئر کی نشست کے لیے پاکستانی اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے متعدد امیدواروں کی موجودگی نے ووٹوں کی ممکنہ تقسیم سے متعلق بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ اگر ایک جیسے حلقوں میں حمایت رکھنے والے کئی امیدوار میدان میں ہوں تو ان کے درمیان ووٹ تقسیم ہونے کا امکان موجود رہتا ہے، تاہم اس بنیاد پر انتخابی نتائج کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
ملٹن کے تمام اہل ووٹرز میئر کے انتخاب میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی ترجیحات صرف کسی امیدوار کے قومی یا ثقافتی پس منظر تک محدود نہیں ہوتیں۔ ٹیکس، رہائش، ٹریفک، کاروبار، ماحولیات اور شہری سہولیات جیسے معاملات مختلف کمیونٹیز کے لیے اہم ہیں۔
یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ اگر پاکستانی نژاد امیدواروں میں سے صرف ایک امیدوار میدان میں ہوتا تو نتیجہ لازماً مختلف ہوتا۔ اس طرح کا امکان زیر بحث آ سکتا ہے، لیکن اس کے حق میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ووٹرز کی ترجیحات اور انتخابی اعداد و شمار درکار ہوں گے۔
“انتخابی وعدوں کی اصل آزمائش عمل درآمد”
ملٹن میں میئر کے امیدواروں کے سامنے صرف ووٹرز کو متاثر کرنے کا چیلنج نہیں، بلکہ شہر کی بڑھتی ضروریات کے مطابق مالی وسائل اور ترقیاتی ترجیحات میں توازن قائم کرنے کا سوال بھی ہے۔
پراپرٹی ٹیکس میں کمی کی تجویز دینے والے امیدواروں کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس سے بلدیاتی خدمات کے بجٹ پر کیا اثر پڑے گا۔ سستی رہائش کے حامیوں کو رہائشی منصوبوں اور ان کی استطاعت سے متعلق عملی اقدامات بیان کرنا ہوں گے، جبکہ ماحولیات کے تحفظ پر زور دینے والوں کے لیے ترقیاتی ضروریات اور قدرتی وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا اہم ہوگا۔
اسی طرح ٹریفک اور عوامی آمدورفت کے مسائل کے حل کے لیے واضح منصوبہ بندی اور وسائل کی ضرورت ہوگی۔ امیدواروں کی عوامی رابطہ مہم، انگریزی میں اپنے خیالات کی مؤثر ترجمانی، شہری مسائل پر گرفت اور قابل عمل تجاویز ان کی انتخابی مہم کے اہم پہلو ہیں، تاہم ان میں سے کوئی عنصر کامیابی کی ضمانت نہیں۔
ملٹن میں انتخابی رابطوں، کارنر میٹنگز اور مقامی سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں۔ 26 اکتوبر کو ووٹنگ کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ شہری موجودہ قیادت کو دوبارہ منتخب کرتے ہیں یا کسی نئے امیدوار کو شہر کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ فی الحال انتخابی مقابلے کا مرکز امیدواروں کے منشور، ان کے وعدوں اور ملٹن کے مستقبل سے متعلق ان کے تصورات ہیں۔

