مولانا فضل الرحمن کی باری

​مولانا فضل الرحمن پاکستان کی سیاست کا ایک ایسا ہرفن مولا کردار ہیں، جن کی چالیس سالہ سیاسی زندگی کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ان کے کئی مختلف اور تضاد سے بھرپور روپ نظر آتے ہیں۔ کبھی وہ انتہائی مصلحت پسند اور مدبر دکھائی دیتے ہیں، تو کبھی اچانک ایک سخت گیر، ایگریسیو اور جنگجو کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کبھی وہ سب سے بڑے عالم دین بن کر ابھرتے ہیں، تو کبھی آئین کے سب سے بڑے علمبردار بن جاتے ہیں۔ کبھی وہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، تو کبھی یکبارگی “سولو فلائٹ” پر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ کبھی وہ مقتدرہ کے سب سے بڑے فرمانبردار اور خیر خواہ نظر آتے ہیں، اور کبھی ایسا للکارا مارتے ہیں کہ لگتا ہے اگلے ہی لمحے سب کچھ تلپٹ کر دیں گے۔

​وہ ہر قسم کے اور ہر نوع کے حالات میں اپنی سیاسی اہمیت اور “بارگیننگ پاور” بنانا خوب جانتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسا پینترا بدلتے ہیں یا ایسی گیم ڈالتے ہیں کہ دوست اور دشمن سبھی حیران رہ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ آئین کی تشریح بھی اپنے مطلوبہ سیاسی مفاد کے مطابق نکالنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ آئینی اور قانونی “مکسچر” ان سے اچھا شاید ہی کوئی تیار کر سکے۔ خاص طور پر جب وہ 1973 کے آئین کی کسی ایک شق کو فلاں شق کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی منطق پیش کرتے ہیں، تو بڑے بڑے آئینی ماہرین اور قانون دانوں کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ ان کے پاس دلائل، منطق اور فقہی موشگافیوں کا وافر ذخیرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ وہ جملے بازی اور اشاروں کنایوں میں ایسی بات کہہ جاتے ہیں جس کی ظاہری طور پر گنجائش ہی نہیں نکلتی۔

​ماضی میں تو وہ شدید ترین سیاسی گولہ باری اور سنگین بحرانوں کے دوران بھی ہمیشہ کسی نہ کسی “پتلی گلی” سے باحفاظت نکل جانے میں کامیاب ہو جاتے تھے، لیکن اس بار جو سیاسی ماحول وہ اپنے گرد پیدا کر بیٹھے ہیں، وہ انتہائی پیچیدہ اور دلدل نما ہے—جس سے نکلنا اب ان کے لیے بھی کوئی آسان کام نہیں رہا۔

​دراصل، مولانا فضل الرحمن جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی امامت کر رہے تھے، تو انہوں نے تحریک انصاف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنا کر جس “سیاسی تابوت” کا جنازہ پڑھا تھا، بعد میں جب اس تابوت کو کھول کر دیکھا گیا تو اس میں تحریک انصاف کی میت تھی ہی نہیں۔ اس تابوت میں تو جمہوریت کی لاش پڑی تھی! تحریک انصاف تو تابوت سے نکل کر سیدھی عوام کے جذبات میں جا چکی تھی۔

​تحریک انصاف اس جرات اور مقبولیت کی قیمت تو خیر اب تک بھگت رہی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب باری مولانا فضل الرحمن کی آ پہنچی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اب بالکل کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ اور ہم محسن نقوی کی بات کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں، کیونکہ وہ جو کہتے ہیں، عملاً وہی کر گزرتے ہیں۔ باقی وزراء تو شاید محض “شامل باجے” اور نمائشی کردار ہیں، لیکن محسن نقوی کے بیانات اور اقدامات کے پیچھے بڑی گہری پالیسی ہوتی ہے۔

​انہوں نے جب تحریک انصاف کے بارے میں کہا تھا کہ اب “Once for all” (ایک ہی بار مکمل حساب) ہوگا، تو پھر دنیا نے دیکھا کہ انہوں نے وہ کر دکھایا۔ اس سے قبل جس طرح انہوں نے کالعدم تحریک لبیک کو پٹاری میں بند کیا، اس کے بعد آج ان کا کوئی نام لیوا اور سڑکوں پر نکلنے والا نظر نہیں آتا۔ پھر 26 نومبر کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کے ساتھ جو کچھ ہوا، اور جس طرح آزاد کشمیر کی احتجاجی لہر کو کچلا گیا—اگر ان تمام کڑیوں کو ملا کر مولانا کے پیدا کردہ موجودہ ماحول کا تجزیہ کیا جائے، تو واضح لگتا ہے کہ اب مولانا کا “نمبر” بھی لگ چکا ہے۔

​اصل کہانی یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی جیسی سخت فضا بنا کر جب تحریک انصاف کو گلی محلوں میں احتجاج کے قابل بھی نہیں رہنے دیا گیا، تو اس صورت حال میں وزارتِ داخلہ اور مقتدر حلقوں کو یہ ہرگز گوارا نہیں کہ خیبر پختونخوا میں کوئی اور سیاسی جماعت ان کے لیے نیا چیلنج بنے یا ریاست مخالف اور احتجاجی عناصر مولانا کی چھتری تلے اکٹھے ہو جائیں۔

​مولانا فضل الرحمن نے بھی مستقبل کی سیاست (خاص طور پر پختونخوا کے ووٹ بینک) کو مدنظر رکھتے ہوئے سخت گیر رویہ اپنانے کی کوشش کی تھی۔ کیونکہ تحریک انصاف کی پسپائی کے بعد خیبر پختونخوا میں مولانا کی جماعت (جمعیت علمائے اسلام) ہی سب سے منظم اور مضبوط قوت ہے۔ مولانا نے سوچا ہوگا کہ وہ تحریک انصاف کے سیاسی خلا اور عوامی غصے کا فائدہ اٹھا کر ان کا اثاثہ لے اڑیں گے۔ لیکن لگتا ہے کہ طاقتور حلقے اور وزارتِ داخلہ یہ حتمی فیصلہ کر چکے ہیں کہ پورے ملک سے کسی بھی قسم کے احتجاجی ایلیمنٹ (Protest Culture) کو مکمل طور پر جڑ سے ختم کر کے ہی دم لینا ہے۔

​آپ ذرا حالات کا جائزہ لیں:
​جماعت اسلامی ایک “اچھے بچے” کی طرح پرامن اور تابعدارانہ سیاست پر آ چکی ہے۔
​تحریک لبیک کا احتجاجی ڈنگ پوری طرح نکال دیا گیا ہے۔
​سب سے بڑے سیاسی خطرے یعنی تحریک انصاف کو قانونی، سیاسی اور انتظامی طور پر مکمل قابو کر لیا گیا ہے۔
​ایسے میں نگرانِ کار اگلے مرحلے میں مولانا فضل الرحمن کے لیے میدان کیسے خالی چھوڑ سکتے ہیں؟

​سب سے دلچسپ اور نازک بات یہ ہے کہ اس صورت حال میں تحریک انصاف نے بھی ایسے وقت پر مولانا سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے سخت گیر موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے صاف کہہ دیا ہے کہ “مولانا کا اپنا طرزِ سیاست ہے اور ہمارا اپنا طرزِ سیاست۔” اس وقت تحریک انصاف کی جو قیادت منظرِ عام پر موجود ہے، وہ کسی بھی ایسے احتجاجی پروگرام کے حق میں نہیں جس سے ریاست سے براہِ راست ٹکراؤ ہو۔ غرض جس جس میں رتی بھر بھی مزاحمت یا احتجاج کی رمق موجود تھی، ان سب کو قابو کر لیا گیا ہے۔

​مولانا فضل الرحمن اس وقت سیاسی بند گلی میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔

​اگر وہ اپنے اس سخت اور مزاحمتی موقف سے پیچھے ہٹتے ہیں، تو ان کا بیانیہ اور سیاست شدید متاثر ہوگی، اور ان کا کارکن مایوس ہو جائے گا۔

​اگر وہ اپنے موقف پر سٹینڈ لیتے ہیں اور سڑکوں پر نکلنے کی غلطی کرتے ہیں، تو پھر جیل یاترا کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف کئی پرانی اور بند فائلیں منظرِ عام پر آنے کی قوی توقع ہے۔ نیب کے دبے ہوئے کیسز بھی کھلیں گے، پرانے سیاسی و مالی حسابات چکتا کیے جائیں گے، اور میڈیا پر چسکے دار کہانیاں مزے لے لے کر بیان کی جائیں گی۔

​اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس بار کون سی چال چلتے ہیں اور اس شکنجے سے کیسے نکلتے ہیں۔ لیکن ان تمام واقعات کے پسِ منظر میں ایک بہت بڑا اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے:

​کیا یہ تمام تر سختی، صفائی اور سیاسی انجینئرنگ میاں شہباز شریف کی موجودہ حکومت کو دوام اور دو سالہ استحکام بخشنے کیلئےکی جا رہی ہے؟ یا پھر پسِ پردہ کسی بالکل نئے سیاسی و آئینی “سسٹم” کیلئےزمین ہموار کی جا رہی ہے؟
​اس سوال کا حتمی اور سچا جواب تو خیر آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے!