واشنگٹن (اے بی سی نیوز، سی این این، دی گارڈین، واشنگٹن پوسٹ)امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی تاریخی شکست کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال انہیں وزارت سے برطرف کرنے کے بجائے عہدے پر برقرار رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ بعض لوگ انہیں فون کرکے پیٹ ہیگسیتھ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ اس معاملے پر انہیں کیوں فون کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فی الحال وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹانے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم جنوری میں ڈیموکریٹس کے کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے کسی نئے وزیر دفاع کی تقرری کا معاملہ طے کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ریپبلکن رہنماؤں اور صدر ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں کا خیال ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر کو قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم جنگ کے ممکنہ نتائج اور اس کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔
ریپبلکن حلقوں میں یہ تنقید بھی کی جارہی ہے کہ وزیر دفاع نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی کامیابی کے امکانات بڑھا چڑھا کر پیش کیے اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کے ہتھیار ڈالنے کے آثار نہ ہونے پر بھی حملوں میں اضافے کی حمایت جاری رکھی۔
ریپبلکن رہنماؤں کے مطابق ایران کے ساتھ طویل جنگ نے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں غیر معینہ مدت کے لیے الجھا دیا، توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے کے خدشات بڑھائے اور ووٹرز کی ناراضی میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی انتخابی شکست میں ایران جنگ کے اثرات کا اعتراف کرچکے ہیں۔
دوسری جانب کینٹکی سے ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کی قرارداد پر ووٹنگ کرانے کی کوشش کریں گے۔ سی این این کے مطابق متعدد ریپبلکن ذرائع کو توقع ہے کہ یہ قرارداد ایوان نمائندگان میں منظور ہوسکتی ہے۔
تھامس میسی اس سے قبل بھی وزیر دفاع کے مواخذے کی قرارداد پیش کرچکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں کانگریس کی منظوری کے بغیر کردار ادا کرنے پر پیٹ ہیگسیتھ کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

