لاہور (سپورٹس ڈیسک) سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم ایک نئی مشکل میں پھنس گئے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بھارتی آن لائن بیٹنگ اور جوا کھیلنے والے پلیٹ فارم کی تشہیر کر رہے ہیں، جس پر ان کے خلاف لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں قانونی کارروائی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست محمد فیاض نامی شہری کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وسیم اکرم نے “باجی” نامی بھارتی بیٹنگ کمپنی کے ساتھ برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر معاہدہ کیا ہے اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو کلپس اور پوسٹرز کے ذریعے عوام کو بیٹنگ ایپ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق کرکٹر اس عمل کے ذریعے پاکستان میں جوئے کو فروغ دے رہے ہیں، جو ملکی قوانین کے تحت مکمل طور پر ممنوع اور غیر قانونی ہے۔ شہری نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ وسیم اکرم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ابھی تک وسیم اکرم کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی تشہیر کرنے والی شخصیات کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف “ڈکی بھائی” کو بھی اسی الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر پیکا 2016 کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ادھر سائبر کرائم حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز عوام کو بھاری مالی نقصان پہنچا رہے ہیں، لہٰذا ان کی تشہیر کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔

