بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ اور کشیدہ ماحول میں ایسے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں جب کوئی ریاست فریق نہیں بلکہ باوقار اور ذمہ دار ثالث کے طور پر ابھرے۔ حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے یہی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو سنجیدہ، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا ہے اور وہ بھی ایسے انداز میں کہ بڑی طاقتیں اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے بھی اکثر اس معیار تک نہیں پہنچ پاتے۔
پاکستان نے اس نازک مرحلے پر کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے توازن، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اس کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کا قیام تھا۔ سفارتی سطح پر متحارب قوتوں کو ایک میز پر لانا، انہیں بات چیت پر آمادہ کرنا اور ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں اعتماد بحال ہو سکے یہ سب نہایت مشکل مراحل تھے، جنہیں پاکستان نے کامیابی سے عبور کیا۔
اسلام آباد تین روز تک عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا رہا۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز رہیں اور بین الاقوامی میڈیا میں اس کا مثبت تذکرہ نمایاں رہا۔ بہترین مہمان نوازی، مؤثر سفارتی ہم آہنگی اور مثالی سیکیورٹی انتظامات نے اس عمل کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ وہ بنیادی تقاضے ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی میزبانی کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں اور پاکستان ان پر پورا اترا۔
طویل عرصے بعدامریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورۂ پاکستان صرف رسمی پیش رفت نہیں بلکہ اہم سفارتی کامیابی ہے۔ اس سے یہ واضح پیغام گیا کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ایسے اعلیٰ سطحی روابط کسی بھی ملک کی عالمی حیثیت، وقار اور امیج کو مضبوط کرتے ہیں۔
جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے، یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ دہائیوں پر محیط تنازعات چند گھنٹوں یا دنوں میں حل نہیں ہوتے۔ 47 سالہ کشیدگی کو 21 گھنٹوں میں ختم کرنے کی توقع حقیقت پسندی کے منافی ہے۔ اس لیے مذاکرات کے آغاز کو ناکامی قرار دینا قبل از وقت اور غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ بات چیت کا دروازہ کھلا اور پاکستان نے یہی سنگِ میل عبور کیا۔
پاکستان کی کاوشوں سے ممکن ہونے والی جنگ بندی بھی ایک اہم پیش رفت ہے، جس نے وقتی طور پر ہی سہی، مگر کشیدگی میں کمی لا کر بڑے تصادم کے خطرے کو ٹالا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمل کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور مذاکرات کے آئندہ مراحل کو سنجیدگی سے جاری رکھا جائے۔ پائیدار امن کے لیے یہ سفر طویل ضرور ہے، مگر ناگزیر بھی۔
اس ثالثی میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا کردار نہایت اہم رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مربوط حکمت عملی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ خطے میں امن کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔ یہی سوچ کسی بھی ریاست کو عالمی سطح پر ممتاز بناتی ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔ اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ فریقین نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار پلیٹ فارم کے طور پر قبول کیا۔ سفارتکاری میں اعتماد سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہےاور پاکستان نے یہ سرمایہ حاصل کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے عالمی امیج میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا تنازعات اور عدم استحکام کا شکار ہے، پاکستان کا امن کا پیغام ایک نرم اور مثبت تاثر پیش کرتا ہے۔ یہی “سافٹ امیج” کسی بھی ریاست کی عالمی شناخت کو نئی جہت دیتا ہے، اور بعید نہیں کہ اس کے اثرات دیگر شعبوں میں بھی نمایاں ہوں۔
تاہم اس کامیابی کو مزید مؤثر بنانے کیلئےقومی یکجہتی کا مظاہرہ بھی ناگزیر تھا۔ اگر اس عمل میں اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں، خصوصاً پیپلز پارٹی، کی شمولیت دکھائی دیتی تو یہ سفارتی کامیابی داخلی سطح پر بھی زیادہ مضبوط اور ہم آہنگ نظر آتی۔ قومی معاملات میں اجتماعی ہم آہنگی ہی ریاستی وقار کو مکمل معنوں میں جِلا بخشتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی مسائل کا مستقل حل نہیں رہی۔ پائیدار امن ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور تدبر سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان نے بروقت اقدام کر کے نہ صرف ممکنہ بڑے تصادم کو روکا بلکہ دنیا کو یہ امید بھی دلائی کہ امن کی راہ اب بھی کھلی ہے۔
بلاشبہ، پاکستان نے جس جرات، حکمت اور خلوص کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی مؤقف کی جیت ہے وہ مؤقف جو امن، استحکام اور انسانیت کی بقا پر یقین رکھتا ہے۔ ویلڈن پاکستان ،واقعی ایک قابلِ فخر پیش رفت

