وینیزویلا اور اردگرد کی فضائی حدود کو ’مکمل طور پر بند‘ سمجھا جائے، امریکی صدر کا انتباہ

واشنگٹن/کاراکاس (رائٹرز/اے پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا اور اس کے اطراف کی فضائی حدود کو ’مکمل طور پر بند‘ تصور کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے تمام ایئرلائنز، پائلٹس اور منشیات و انسانی اسمگلرز سے گزارش کی کہ وہ اس علاقے کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند سمجھیں۔

وینیزویلا کی وزارتِ اطلاعات اور امریکی محکمہ دفاع نے اس بارے میں فوری تبصرہ نہیں کیا۔ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف کارروائیاں کئی ماہ سے جاری ہیں، جبکہ ٹرمپ نے وینیزویلا میں CIA کی خفیہ کارروائیوں کی منظوری بھی دے رکھی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بہت جلد وینیزویلا سے تعلق رکھنے والے مشتبہ منشیات اسمگلرز کے خلاف زمینی کارروائیاں شروع کرے گا۔ امریکی ہوا بازی کے ریگولیٹر نے بھی بڑی ایئرلائنز کو وینیزویلا کے اوپر پرواز کرنے سے متعلق ’ممکنہ خطرناک صورتحال‘ کی وارننگ دی تھی۔

وینیزویلا نے امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی وارننگ کے بعد چھ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کے آپریشنل حقوق منسوخ کر دیے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے، جبکہ مادورو اس سے انکار کرتے ہیں اور امریکی کوششوں کی مزاحمت کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ستمبر سے اب تک کیریبین اور بحرالکاہل میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر امریکی فورسز کے کم از کم 21 حملے کیے گئے، جن میں 83 افراد ہلاک ہوئے۔