واشنگٹن (رائٹرز، نیویارک ٹائمز)اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملوں میں وقفہ دے کر سفارتکاری کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا چاہتے ہیں اور تہران کو مذاکرات کا ایک موقع دے رہے ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک والٹز نے کہا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کو کچھ وقت اور ایران کو گنجائش دے رہے ہیں، تاہم انہوں نے مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعہ کو ایران پر 13 روز سے جاری امریکی حملے روکنے کا حکم دیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے عارضی طور پر روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جنرل ڈین کین نے نجی طور پر خبردار کیا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے سے امریکی سینٹرل کمان کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ایران پر حملوں کے نتیجے میں توقعات کے برعکس ایرانی قیادت کو اندرونی طور پر متحد ہونے اور بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع ملا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق عمانی حکام کے ایران کے دورے اور ممکنہ مذاکرات کے باعث بھی حملے روکے گئے، جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس حملے دوبارہ شروع کرنے اور ان کی شدت بڑھانے کا اختیار موجود ہے، تاہم ان کے بقول “اسمارٹ حکمت عملی” ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔

