ماسکو / سان فرانسسکو (ویب ڈیسک)سابق یو ایف سی چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں صرف پاکستانی کھانا کھانے کی جلدی میں امریکی پرواز سے اتار دیا گیا۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے داغستان سے تعلق رکھنے والے معروف روسی فائٹر نے بتایا کہ وہ سان فرانسسکو کے پاکستانی ریسٹورنٹ ’چٹنی‘ میں کھانے کیلئے بےتاب تھے، جس کے باعث انہوں نے سستی اکانومی فلائٹ کا انتخاب کیا، جو انہیں مہنگا پڑ گیا۔
خبیب کے مطابق، جب وہ پرواز میں سوار ہوئے تو انہوں نے جان بوجھ کر ایگزٹ رو کی سیٹ لی تاکہ آرام سے بیٹھ سکیں، مگر فلائٹ کریو نے ان سے کہا کہ ان کی انگریزی کمزور ہے اور وہ ایمرجنسی گیٹ کو سمجھنے کے اہل نہیں۔ خبیب نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ زبان جانتے ہیں، لیکن عملے نے بحث کے بعد انہیں سیکیورٹی بلا کر جہاز سے اتار دیا۔
یہ واقعہ فرنٹیئر ایئرلائنز کی پرواز پر پیش آیا، جس کی ویڈیو کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ صارفین نے اسے نسل پرستی اور امتیازی سلوک قرار دیا، تاہم خبیب نے معاملے کو برداشت کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ عملہ “بدتمیز” تھا اور مسافروں سے نرمی سے پیش آنا چاہیے۔
خبیب نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ وہ 2012 سے ’چٹنی‘ ریسٹورنٹ جا رہے ہیں، جو رات 9 یا 10 بجے بند ہو جاتا ہے، اسی لیے انہوں نے وقت بچانے کے لیے سستی پرواز لی تاکہ وقت پر ریسٹورنٹ پہنچ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ روایتی داغستانی کھانوں سے محبت رکھتے ہیں، لیکن جب بیرون ملک کھانوں کی بات آتی ہے تو پاکستانی کھانے ان کی اولین ترجیح ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ خبیب نورماگومیدوف نے قزاقستان میں ’M-Eight’ کے نام سے فاسٹ فوڈ چین بھی قائم کی ہے، جو اپنے منفرد سینڈوچز کے لیے جانی جاتی ہے۔ خبیب خود کو ایک “فوڈی” یعنی کھانوں کا شوقین قرار دیتے ہیں۔

