پنجاب میں گورننس کا معیار

پنجاب میں گورننس کا معیار بہتر بنانے کے لیے حکومت جتنی اہمیت اپنی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو دیتی ہے، اتنی ہی توجہ اسے انتظامی مشینری کو فعال، مطمئن اور متحرک رکھنے پر بھی دینی چاہیے، کسی صوبے کی کامیابی کا انحصار صرف وزیراعلیٰ کے احکامات، اجلاسوں میں دی گئی ہدایات یا افسروں کی جواب دہی پر نہیں ،اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ سرکاری افسر کس ماحول میں کام کر رہے ہیں، انہیں کتنی آزادی حاصل ہے، ان کے مسائل کون سنتا ہے اور اچھی کارکردگی دکھانے پر ان کی حوصلہ افزائی کیسے کی جاتی ہے، صوبے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا منصب اسی تناظر میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، جس کے ذمے مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری، انتظامی فیصلوں پر عمل درآمد، فیلڈ انتظامیہ کی نگرانی اور حکومتی ترجیحات کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوتا ہے، چند ماہ قبل احمد رضا سرور کی وفاقی سیکرٹری داخلہ کے طور پر تعیناتی کے بعد افتخار علی سہو کو اس منصب پر مقرر کیا گیا تو انتظامی حلقوں میں ان کے انتخاب کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا،افتخار علی سہو کے بارے میں بیوروکریسی کے تمام گروپوں اور حلقوں میں بڑا مثبت تاثر پایا جا رہا ہے ، ان کی کوآرڈی نیشن، گفتگو کے انداز، رویے اور کام کی رفتار سے افسر مطمئن نظر آ رہے ہیں، یہ بظاہر معمولی باتیں ہیں، لیکن سرکاری نظام میں ان کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، ایک افسر اگر اپنے مسائل کھل کر بیان کر سکے، اسے متعلقہ حکام تک رسائی حاصل ہو اور اس کی جائز تجاویز پر توجہ دی جائے تو کام کی رفتار خودبخود بہتر ہونے لگتی ہے۔

دوسری طرف پنجاب میں کام کرنے والے متعدد سیکرٹریوں ، کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے لیے سخت محنت کے باوجود بھی حکومتی توقعات پوری کرنا آسان نظر نہیں آ رہا، ان پر بیک وقت صفائی، تجاوزات کے خاتمے، ترقیاتی منصوبوں، عوامی شکایات، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، امن و امان اور دیگر انتظامی اہداف کی ذمہ داری ہوتی ہے، اگر ہر معاملے میں فوری نتائج مطلوب ہوں اور معمولی کوتاہی پر بھی سخت کارروائی کا اندیشہ رہے تو افسر مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی پوزیشن بہتر رکھنے کی فکر میں مبتلا ہو سکتا ہے،یہی وہ مقام ہے جہاں افتخار علی سہو جیسے سینئر منتظم کا کردار اہم ہو جاتا ہے، انہیں حکومت کی ترجیحات پر عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہے اور انتظامی افسروں کو یہ احساس بھی دلانا ہے کہ ان کے پیچھے ایک ایسا نظام موجود ہے جو انہیں کام کرنے کا موقع دیتا ہے، جائز فیصلوں میں ان کا ساتھ دیتا ہے ،غلطی اور بدعنوانی کے درمیان فرق سمجھتا ہے، نظم و ضبط ضروری ہے، مگر خوف کو گورننس کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

پنجاب کی ڈویزنل انتظامیہ میں کچھ افسر ایسے ہیں جو روزمرہ کے انتظامی فرائض کے ساتھ اپنے زیر انتظام علاقوں کی شناخت، ثقافت اور شہری زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، کمشنر ملتان ڈویزن عامر کریم خان بھی ان افسروں میں شمار کیے جاتے ہیں جو فیلڈ میں متحرک رہنے اور نئے منصوبوں پر کام کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں، اپنی تعیناتی کے بعد سے اب تک انہوں نے ملتان اور دوسرے زیر انتظام اضلاع میں مثالی کام کئے ہیں ، ملتان کی تاریخی میونسپل پبلک لائبریری کی بحالی اور اس کے ساتھ ہیریٹیج لائبریری کیفے کا قیام اس سلسلے کی ایک قابل ذکر مثال ہے، اسی مہینے اس بحال شدہ لائبریری اور کیفے کا افتتاح کیا گیا، اس منصوبے نے ایک تاریخی عمارت کو محض ماضی کی یادگار رکھنے کے بجائے علمی، ادبی اور سماجی سرگرمیوں کی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے،اس منصوبے کی اہمیت صرف اتنی نہیں کہ شہر کو ایک خوبصورت کیفے مل گیا، اصل بات یہ ہے کہ نوجوانوں، یونیورسٹی کے طلبہ، اہل علم، ادیبوں اور عام شہریوں کو کتاب، مطالعے اور تاریخی ورثے سے جوڑنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے، ایک اچھا منتظم وہی ہے جو شہر کے موجود وسائل کو پہچانے، نجی شعبے اور متعلقہ اداروں کو ساتھ ملائے اور عوام کو ایسا تحفہ دے جس کا فائدہ اس کی تعیناتی کے بعد بھی جاری رہےاور عامر کریم خان کاموں کا ماہر ہے۔

اسی طرح لیہ جیسے نسبتاً دوردراز ضلع میں ڈپٹی کمشنر آصف ڈوگر کی جانب سے فٹ بال لیگ کا انعقاد ایک قابل توجہ مثال ہے، پہلی لیہ فٹ بال لیگ آٹھ روز تک جاری رہی، جس میں چاروں صوبوں سے 30 ٹیموں نے شرکت کی اور تقریباً دس ہزار تماشائی اس ایونٹ کو دیکھنے پہنچے،اس لیگ کی خاص بات یہ بتائی گئی کہ اسے شراکت داروں کے تعاون سے پی ایس ایل کے انداز میں منعقد کیا گیا اور سرکاری خزانے سے فنڈز استعمال نہیں کیے گئے،اس لحاظ سے یہ منصوبہ مقامی سطح پر وسائل جمع کرنے، نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے اور کسی نسبتاً کم معروف ضلع کو مثبت انداز میں متعارف کرانے کی اچھی مثال ہے۔اوکاڑہ میں ایک پارک کی نمایاں بہتری کو وزیراعلیٰ کی طرف سے سراہا جانا بھی اسی سلسلے کی مثال ہے، زمان پارک بظاہر ایک معمولی شہری سہولت دکھائی دیتا ہے، لیکن عام آدمی کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، خاندانوں کو تفریح، بچوں کو بہتر ماحول، بزرگوں کو چہل قدمی اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع ملتے ہیں،سرکاری زمین پر ایک اچھا پارک بنا دینا یا پہلے سے موجود پارک کو بہتر کر دینا کسی بڑے میگا پراجیکٹ کے مقابلے میں کم خرچ کام ہو سکتا ہے، لیکن اس کا فائدہ براہ راست شہریوں تک پہنچتا ہے، حکومت کو ایسی کارکردگی کو ضرور سراہنا چاہیے، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اکرام ملک کو یاد رکھنا ہو گا کہ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پارک کی صفائی، روشنی، حفاظت اور دیکھ بھال بھی مستقل بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔

اب اس تمام صورت حال کے مقابلے میں جھنگ کا واقعہ دیکھیے، ضلع میں پہلی تھل جیپ ریلی اور ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا،جسے عوام میں بے حد پزیرائی ملی ، اس ایونٹ کا مقصد علاقے کے صحرائی حسن، ثقافت، روایات اور سیاحتی امکانات کو متعارف کرانا تھا، اس نوعیت کی سرگرمیاں مناسب منصوبہ بندی اور حفاظتی انتظامات کے ساتھ منعقد ہوں تو مقامی معیشت، سیاحت اور ضلع کی شناخت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں ، ریلی کے دوران پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی پیرا، کی ایک گاڑی کے دیگر گاڑیوں کے ساتھ نظر آنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین کو تبدیل کر دیا گیا، حکومتی مؤقف کے مطابق سرکاری وسائل کو ان کے مقررہ دائرۂ کار سے ہٹ کر استعمال کرنا انتظامی نظم و ضبط کے خلاف ہے، لیکن منصفانہ انتظامی نظام میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ متعلقہ گاڑی کس کے حکم پر وہاں پہنچی، اس کے استعمال کی اجازت کس نے دی ، اہم بات یہ بھی ہے کہ کیا پوری ریلی کی افادیت اور اس کے انعقاد کی کوشش کو ایک معمولی انتظامی خلاف ورزی سے بھی کم اہم سمجھ لیا جائے؟گورننس کا بہترین ماڈل وہ نہیں جس میں افسر ہر وقت سزا کے خوف میں مبتلا رہے، بلکہ وہ ہے جس میں اچھا کام کرنے والے کو اعتماد، غلطی کرنے والے کو اصلاح کا موقع اور جان بوجھ کر قانون توڑنے والے کو شفاف احتساب کا سامنا ہو، پنجاب کو اسی توازن کی ضرورت ہے۔