واشنگٹن(فاکس نیوز، عالمی میڈیا رپورٹس)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کر لیا ہے، جو تقریباً ایک دہائی بعد چین کی جانب سے امریکی ساختہ کمرشل طیاروں کی بڑی خریداری ہوگی۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کے دوران طے پایا۔تاہم ابھی تک اس معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ آرڈر صرف نَارو باڈی طیاروں پر مشتمل ہے یا بڑے وائیڈ باڈی طیارے بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق 200 طیاروں کا یہ ممکنہ آرڈر ان 500 طیاروں سے کم ہے جن پر پہلے بات چیت کی طلاعات تھیں، جبکہ چین کی بڑھتی ہوئی فضائی ضروریات کے لحاظ سے یہ تعداد اب بھی کم سمجھی جا رہی ہے۔اس اعلان کے بعد بوئنگ کے شیئرز میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔وائٹ ہاؤس اور بوئنگ کمپنی نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی خزانہ سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران بوئنگ سے متعلق بڑے آرڈر کا اعلان متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق بوئنگ کے سی ای او اور دیگر امریکی بزنس رہنما بھی اس دورے میں شامل تھے، تاکہ چین کے ساتھ کاروباری معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یاد رہے کہ 2017 میں بھی چین نے بوئنگ کے 300 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں تجارتی کشیدگی اور دیگر تنازعات کے باعث یہ تعلق متاثر ہوا۔اب چین کی مارکیٹ میں ایئربس کی برتری بڑھ چکی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق چین کو 2045 تک ہزاروں نئے طیاروں کی ضرورت ہوگی۔

