ڈگری تنازع کیس: جسٹس طارق جہانگیری کا چیف جسٹس کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض

اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنے خلاف زیرِ سماعت ڈگری تنازع کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کیس کسی دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معزز جج صاحب عدالت میں موجود ہیں اور وہ صرف ان کا مؤقف سننا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ انہیں جمعرات کو نوٹس ملا، نوٹس کے ساتھ پٹیشن کی کاپی تک فراہم نہیں کی گئی، یہ 34 سال پرانا معاملہ ہے اور انہیں پٹیشن کی مکمل کاپی حاصل کرنے کیلئےوقت دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جج ہیں اور انہوں نے خود چیف جسٹس کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی ہے، اس لیے یہ مفادات کے ٹکراؤ کا معاملہ بنتا ہے۔

جسٹس طارق جہانگیری نے عدالت کو بتایا کہ کووارنٹو کی رٹ ہمیشہ سنگل بینچ سنتا ہے، ڈویژن بینچ نہیں، جبکہ انہیں عدالتی کام سے بھی روک دیا گیا جو عدالتی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی فردِ جرم عائد کرنے کیلئے وقت دیا جاتا ہے، جبکہ انہیں صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا، اگر ایسی نظیر قائم ہوئی تو اس کے تباہ کن اثرات ہوں گے۔

دورانِ سماعت جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے، یونیورسٹی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ڈگری جعلی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں چیف جسٹس کے بینچ پر اعتماد نہیں، اگر کیس سننا ہے تو کسی اور بینچ کو منتقل کیا جائے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کو پٹیشن اور تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، جبکہ کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

“کیس کا پس منظر”
جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق شکایت جولائی 2023 میں سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرائی گئی تھی، جبکہ ان کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست رواں برس اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی۔ معاملہ اس خط کے گرد گھومتا ہے جو گزشتہ سال سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا، جس میں مبینہ طور پر کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے قانون کی ڈگری سے متعلق معلومات درج تھیں۔

رواں سال 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔ 19 ستمبر 2025 کو جسٹس طارق محمود جہانگیری نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کیخلاف دائر 7 درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی تھیں، جس کے خلاف انہوں نے 2 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔