اسلام آباد (اے پی)پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے کرم میں پاکستانی سکیورٹی فورسز اور افغان طالبان اہلکاروں کے درمیان کئی مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران پاکستانی حکام کے مطابق توپ خانے کی مدد سے افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کردی گئیں۔ پاکستانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے تحریک طالبان پاکستان کے متعدد جنگجو مارے گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تین پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے بتایا کہ کرم کے سرحدی علاقے میں کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔ اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، کیونکہ انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں سے فائرنگ کے دوران پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی بتایا کہ پاکستانی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کی بعض چوکیاں تباہ ہوئیں اور اہلکاروں کو وہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
“دراندازی کی کوشش کرنے والے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ”
پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق مشرقی افغانستان کے ایک دور افتادہ علاقے سے مسلح افراد نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر فورسز نے کارروائی کی۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد جنگجو مارے گئے، تاہم ان کی درست تعداد فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔
دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کرم کے بالائی سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی چوکیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اہلکاروں نے دراندازی کی کوشش کرنے والے مسلح افراد کی مدد کے لیے فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے کارروائی کی۔
“افغان طالبان حکومت کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا”
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق واقعے پر افغان طالبان حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ہونے والے جانی نقصان اور پاکستانی حکام کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرحد پار حملوں اور عسکری کارروائیوں کے باعث رواں سال مسلسل تناؤ رہا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں اور جنگجوؤں کو افغانستان میں پناہ حاصل ہے اور وہ وہاں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
“سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ”
پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک ملک بھر میں 2 ہزار 800 سے زائد عسکریت پسند حملے ہوچکے ہیں، جن میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے افغانستان میں امدادی مشن نے ستمبر میں بتایا تھا کہ رواں سال افغانستان میں سرحد پار تشدد کے واقعات کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے ایک ہزار 100 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے۔سرحد پر تازہ جھڑپوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے، دراندازی کی کوششوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال بدستور تشویش ناک ہے۔

