لندن (دی گارڈین) کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈی جنوبی لندن میں اپنے گھر سے مردہ پائے گئے، ان کی عمر 41 سال تھی۔
دی گارڈین کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس کو جمعہ کو سہ پہر 3 بجے کے بعد لندن ایمبولینس سروس کی جانب سے جیسن آرڈی کے گھر بلایا گیا۔ پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ 41 سالہ شخص کو جائے وقوع پر مردہ قرار دیا گیا، ان کے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع دے دی گئی ہے اور افسران انہیں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق جیسن آرڈی کی موت غیر متوقع ہے تاہم اسے مشکوک نہیں سمجھا جا رہا، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کورونر کو بھیجی جائیگی۔ پولیس کو فی الحال شبہ نہیں کہ موت میں کوئی دوسرا شخص ملوث ہے۔
جیسن آرڈی کے اہل خانہ نے بیان میں کہا کہ کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تین سال سے زائد عرصے تک انہیں مسلسل بدسلوکی کا سامنا رہا۔ اہل خانہ کے مطابق غلط معلومات کی مہم جیسن کے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی، وہ نرم مزاج انسان تھے اور ہمیشہ دوسروں میں اچھائی دیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔
اہل خانہ نے کہا کہ وہ ایک شاندار والد، ساتھی، بھائی، چچا اور بیٹے سے محروم ہونے پر صدمے میں ہیں اور میڈیا سے اپیل کی کہ انہیں مزید ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔
لندن کے میئر صادق خان نے جیسن آرڈی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اہل خانہ اور دوستوں کیلئےشدید دکھ ہے۔ ان کے مطابق جیسن کو ناقابل قبول عوامی تنقید اور بدسلوکی کی مہم کا سامنا کرنا پڑا۔
جیسن آرڈی نے 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں شعبہ تعلیم و سماجیات کے پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور وہ یونیورسٹی کے اب تک کے کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر تھے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے علمی سرقے کے الزامات اور اپنے کیریئر و تعلیمی کامیابیوں سے متعلق مختلف دعوؤں پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
جیسن آرڈی نے اپنے استعفے میں کہا تھا کہ مسلسل الزامات، قیاس آرائیوں اور عوامی تبصروں نے ان پر اور ان کے عزیزوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈیبورا پرینٹس نے جیسن آرڈی کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ اور دوستوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
جیسن آرڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 11 سال کی عمر تک بول نہیں سکتے تھے اور 18 سال کی عمر تک لکھنے پڑھنے سے محروم رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی زندگی اور تعلیمی کیریئر سے متعلق متعدد دعوؤں پر سوالات اٹھائے گئے۔
ان پر پی ایچ ڈی کے مقالے میں دوسرے ماہر تعلیم کے کام کی نقل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ لیورپول جان مورز یونیورسٹی کی جانب سے رواں سال کی گئی تحقیقات میں انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔
5 اگست کو کیمبرج یونیورسٹی نے ان کی تعلیمی اسناد اور اعزازی تقرریوں سے متعلق نئی معلومات موصول ہونے کے بعد داخلی تحقیقات کا اعلان کیا تھا، جبکہ جیسس کالج نے بھی تحقیقات کا اعلان کیا۔ اس کے بعد جیسن آرڈی نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
گلاسگو یونیورسٹی نے بھی بعد ازاں جیسن آرڈی کی تعلیمی اسناد کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

