ہمارے ’کاکروچ‘ کہاں گئے

جب انسانوں کو وہ بھی نوجوانوں کو کیڑے مکوڑے یا کاکروچ سمجھا جائیگا اور اُس کا علاج دوا کے بجائے لاٹھی اور آنسو گیس سے کرنے کی کوشش کی جائیگی تو نتائج ویسے ہی سامنے آئیں گے جیسے بھارت میں حال ہی میں چلائی جانے والی کاکروچ تحریک میں سامنے آئے۔ اگر مودی سرکار ابتدا میں ہی وزیر تعلیم کا استعفیٰ مانگ لیتی تو ’کاکروچ‘ باہر آتے ہی نہیں۔ اب وہ جج صاحب بھی سوچتے ہوں گے کہ ذرا سا طنز کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے کہ آخر سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا لہٰذا بھارتی نوجوانوں کو، وہاں کی جین زی کو مبارک باد کہ انہوں نے اپنے تعلیمی مسائل پر ایک انتہائی منظم اور بھر پور تحریک چلائی۔ یہیںکچھ مثالیں بھی قائم کیں۔ جس طرح طلباء طالبات تحریک کے دوران کچرا صاف کر رہے تھے ، سول سوسائٹی کے لوگ، سیاسی کارکن، فنکار، شاعر ادیب اس تحریک کا حصہ بن رہے تھے وہ خود ایک مثبت پیغام ہے۔ کئی لڑکوں اور لڑکیوں کے اندر واضح طور پر ایک سیاسی شعور اور سوچ نظر آرہی تھی کہ اس پوری تحریک میں نہ کوئی ذات پات، تفرقہ یا مذہبی تفریق نظر آئی بس ایک ہی نعرہ تھا وزیر تعلیم کا استعفیٰ اور امتحانی نظام میں تبدیلی۔ کئی کئی سو کلو میٹر کا بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرکے کاکروچ تحریک کا حصہ بنے۔

عام طور پر کوئی بھی احتجاج ایک چنگاری کی مانند ہوتا ہے اگر سرکار اس پر پانی ڈال دے تو وہ شعلہ نہیں بنتی اور اگر تیل یا پیٹرول ڈال دے تو وہ آگ جنگل کی آگ کی طرح اُن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے،جو پانی کے بجائے تیل ڈالتے ہیں اب اس تحریک کے آنیوالے وقتوں میں کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔کچھ کہنا قبل از وقت ہے مگر اس نے یقینی طور پر سیکولر بھارت کی واپسی کا راستہ تلاش کر لیا ہے مودی کے انتہا پسند بھارت سے۔ اس تحریک میں یقینی طورپرکئی مستقبل کے ممکنہ لیڈر بھی نظر آئے کوئی جوشیلی تقریر کرتے ہوئے ،کوئی فیض ،جوش، جالب اور کیفی اعظمی کی شاعری سناتے ہوئے ،کسی کو اس تحریک میں چند ماہ پہلے بنگلہ دیش کے نو جوانوں کی تحریک نظر آئی تو کسی کو نیپال کی تو کوئی ARAB SPRING کی مثالیں دینے لگا۔ ظلم و نا انصافی اور اپنے حقوق کی جدو جہد کیلئے کسی ایک مطالبے پر شروع ہونے والا احتجاج کبھی کبھی حکمرانوں کے زوال کا باعث بھی بن جاتاہے جیسا کہ ہمارے ہاں راولپنڈی کے پولی ٹیکنک کالج کے ایک نوجوان کی پولیس گولی سے ہلاکت کے خلاف احتجاج ایوب خان کی حکومت کے زوال کا باعث بنا ۔ وہ تحریک بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، این ایس ایف نے شروع کی۔

بھارت کی کروچ تحریک نے مجھے 1953 کے طلبہ یا اُس وقت کے’ کاکروچ‘ کی یاد دلا دی جس کے غالباً واحد گواہ اور لیڈر ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی حیات ہیں ۔ وہ احتجاج بھی کتابوں کی قیمتوں اور بسوں میں طلبہ کو رعایتی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ سے شروع ہواجسکے سر کردہ رہنماؤں میں ادیب صاحب کے علاوہ ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ہاشمی اور ڈاکٹر ہارون تھے ۔ 8 جنوری 1953 کو ایک جلوس پر پولیس نے گولی چلادی اور کوئی 8 نوجوان ہلاک ہوئے جن کی یاد آج تک منائی جاتی ہے۔ چند سال پہلے اُس وقت کے وزیر تعلیم علاج کیلئے SIUT میں داخل تھے جب ادیب صاحب نے اُن کو یاد دلایا کہ وہ اُس تحریک کا حصہ تھے جب وزیر موصوف کی گاڑی کو نوجوانوں نے آگ لگا دی تھی ۔ پھر ہماری سرکار نے آنیوالے وقتوںکیلئے حکمت عملی تشکیل دی کہ آخر کس طرح نوجوانوں کو اس سیاسی رجحان سے روکا جاسکتاہے اور ان کو مکمل طور پر غیر سیاسی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جسکی ابتدا 1984 میں ملک بھر میں طلبہ یونین پر پابندی سے شروع کی گئی ۔جواز یہ پیش کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں تشدد کا رجحان بڑھ گیا ہے مگر اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ ایسا کیوں ہوا ۔آخر برسوں پر امن انداز میں طلبہ یونین کے الیکشن ہوتے رہے تو یہ اسلحہ کیسے آیا یا لایا گیا ،کبھی ایک طلبہ تنظیم کے ذریعے انتہا پسندی کو فروغ دیا اور تعلیمی اداروں میں تنقیدی نشستوں، مباحث ، موسیقی اور کلچرل رجحانات کو روکا گیا تو دوسری طرف تعلیمی اداروں میں لسانی رنگ بھی غالب آ گیا۔ یوں ہم نے ’کاکروچ‘ بننے ہی نہیں دیئے مگر جہاں گندگی پھیلائی جاتی ہے وہاں کاکروچ بھی آتے ہیں اور کیڑے مکوڑے بھی۔ شاید ہی پاکستان میں کیا اس خطے میں کوئی طلبہ تحریک صرف ایک مطالبے پر ’’طلبہ یونین بحال کرو‘‘ اور ’’ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘‘ پر چلی اور چار ماہ تک یہ ’کاکروچ‘ سڑکوں پر رہے مگر پھر وہی ہوا جو ماضی میں کئی سیاسی اور طلبہ تحریکوں میں ہوتا ہے یعنی ’تقسیم‘ کردو اور اچانک جب تحریک کامیابی کے قریب تھی مارشل لا کی بی ٹیم کے سربراہ نے اپنے نوجوانوں کو تحریک کا مزید حصہ بننے سے روک دیا اور یوں تحریک مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے پہلے ہی ختم کر دی گئی۔

ان چالیس برسوں میں نہ صرف طلبہ غیر سیاسی ہو گئے بلکہ معاشرےمیںبھی ہم تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے۔ چاہے وہ سیاست ہو، طلبہ ہوں،ٹریڈ یونین ہو یا خود صحافی تنظیمیں ہوں۔ مگر ’کاکروچ‘ مرتا نہیں ہے کسی نہ کسی شکل میں کبھی نہ کبھی وہ کہیں سے بھی نکل آتا ہے۔ لہٰذا دنیا بھر میں ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کیا آیا لوگوں کو آواز مل گئی پھر کیا تھا کبھی وہ مصر میں نظر آیا تحریک کی شکل میں تو کبھی ڈھاکہ میں ، کبھی نیپال میں تو کبھی بمبئی میں۔ اب اس کے کئی مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی اثرات بھی مگر جب آپ راستہ روکیں گے، بند کریں گے تو کاکروچ کوئی راستہ نکال ہی لے گا۔ ہمارے یہاں تعلیمی نظام کا جو حال ہے سرکاری اسکول ہوں، کالج ہوں یا جامعات اُسے دیکھ کر شرم بھی آتی ہے اور غصہ بھی۔ اب تو ہم نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کو بی اے اور ایم اے کی ڈگری بنا دیا ہے۔ آئے دن امتحانات میں پیپر لیک ہوتے ہیں ،وائس چانسلر ایسے لاتے ہیں جنہیں جامعات میں داخلہ بھی نہیں ملنا چاہئے تھا کسی جامعہ کے پاس کروڑوں، اربوں روپے ہیں مگر اُستاد تنخواہ اور پنشن کیلئے جامعات کے بجائے سڑکوں پر ہیں۔ فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔

طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔