“آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں”،ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت ردعمل

تہران/واشنگٹن (رائٹرز/اے ایف پی/ارنا/تسنیم) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جزیرۂ خارگ کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے اشارے کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، “آؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملوں کے لیے کسی ملک کی سرزمین استعمال کی گئی تو ایرانی مسلح افواج ایسے مقامات کو جائز فوجی ہدف تصور کریں گی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دھونس، دباؤ اور طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کا دور گزر چکا ہے اور ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ایران مکمل طور پر دفاع کے لیے تیار ہے اور اگر جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) کی جانب سے ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ معاہدے میں شدید مشکلات درپیش ہیں اور ایران کئی دہائیوں سے دنیا کو دھمکاتا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے ایران کی تازہ دھمکیوں پر فوری طور پر کوئی نیا باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ خطے کی صورت حال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔