ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی

تہران/منامہ/کویت سٹی (رائٹرز/اے ایف پی/ارنا/مہر نیوز) ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی میں خطے میں واقع امریکی فوج کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈکوارٹر، کویت میں علی السالم ایئر بیس اور دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے ایک امریکی MQ-9 Reaper ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی “ابتدائی کارروائی” ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی افواج نے ایران میں بوشہر، بندر عباس، سِریک اور دیگر مقامات پر 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات، جہاز شکن میزائل اور دو فوجی ہیڈکوارٹر بھی شامل تھے۔

دوسری جانب کویت نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ کویتی وزارت خارجہ نے کشیدگی میں کمی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔

قطر نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کو دونوں ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

عمان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینے کی اپیل کی، جبکہ مصر نے خلیجی ممالک پر حملوں کو ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے علاقائی سلامتی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور بحرین نے ایران کے تمام فوجی دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ بعض دعوؤں، بشمول امریکی ڈرون گرائے جانے اور تمام اہداف کو نشانہ بنانے کی آزاد ذرائع سے بھی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔