امریکا کے ایران پر تازہ فضائی حملے، جنوبی ساحلی شہروں میں دھماکے، چابہار کی بجلی معطل

واشنگٹن/تہران (رائٹرز/اے ایف پی/سی این این/ارنا/فارس/مہر نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو عملاً ختم قرار دینے کے چند گھنٹوں بعد امریکا نے ایران پر ایک اور بڑے فضائی حملے کا آغاز کر دیا، جبکہ ایرانی میڈیا نے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں اور چابہار شہر میں بجلی کی بندش کی اطلاع دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے ایران کے خلاف نئی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

امریکی بیان میں کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بج کر 15 منٹ پر بندر عباس، سِریک اور سِریک کے مغربی ساحلی سمندری علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ فارس نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے ان علاقوں میں دشمن کے اہداف کا مقابلہ کرتے ہوئے کارروائی کی۔

ادھر مہر نیوز ایجنسی نے بندر عباس کے علاوہ جنوبی ساحلی شہروں کنارک اور چابہار میں بھی دھماکوں کی تصدیق کی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق تازہ امریکی حملوں کے بعد بندرگاہی شہر چابہار میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جبکہ چابہار اور کنارک میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم فوری طور پر ان حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا “بہت ممکن ہے کہ آج رات” ایران کو دوبارہ نشانہ بنائے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا ہلاکتوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔