تہران( فنانشل ٹائمز، ایرانی میڈیا، امریکی محکمہ خارجہ)ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض آئل ٹینکروں کو واپس مڑنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق کم از کم چار آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے یوٹرن لیتے ہوئے دیکھے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر ان جہازوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر اپنا راستہ تبدیل کیا۔ اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ ایران کی منظوری کے بغیر مقرر کیے گئے بحری راستے ناقابلِ قبول اور خطرناک ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کا یہ انتباہ ایک لائبیریا کے رجسٹرڈ آئل ٹینکر کے آبنائے ہرمز سے باہر عمان کے قریب گزرنے کے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹول عائد نہیں کیا جا سکتا اور کوئی بھی ملک اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹیکس وصول کرنے کا مجاز نہیں۔
بحرین میں خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، جبکہ آبنائے ہرمز پر ٹول یا فیس عائد کرنے کے تصور کو خلیجی ممالک کی کوئی حمایت حاصل نہیں۔

