ملک کے مختلف حصوں میں جنسی زیادتی کی وارداتیں تو کب سے ہو رہی ہیں تاہم حالیہ دنوں میں تین سالہ اور سات سالہ بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل نے معاشرے کے مختلف حلقوں کو چونکا دیا جبکہ خیبرپختونخوا میں ہونیوالی اجتماعی واردات بھی سوچنے پر مجبور کررہی ہے یہ سانحہ کئی روز پہلے کا ہے اور مقامی جرگہ کا عجیب و غریب فیصلہ بھی سامنے آیا ہے، ان کے مطابق یہ طے کر دیا گیا کہ مظلوم بچی کو مجرمانہ حملہ کے ملزموں میں سے کسی ایک کے ساتھ بیاہ دیا جائے۔ پولیس نے اس پر عملی کارروائی کی اور باقاعدہ مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
انہی جرائم کے حوالے سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے پروگرام بھی کئے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسے واقعات کیوں ہوئے اور ان میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے اس سلسلے میں ماہرین کی آراء بھی لی گئیں اور کئی پہلوؤں پر بات ہوئی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب کی خاتون سربراہ نے تو والدین کو نصیحت کر دی کہ چھوٹی بچیوں کو اکیلا نہ بھیجا جائے۔ ٹاک شو میں پولیس پر بھی الزام لگائے گئے اور یہ بھی تجویز کیا گیا کہ مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں، اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ سات سالہ بچی کے ملزموں میں سے مرکزی ملزم تو سزا پا چکا اور اسے سی سی ڈی سے مبینہ مقابلہ موت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
یہ سب اپنی جگہ، مگر یہ سلسلہ کسی طور رک نہیں رہا، قصور کی مظلوم زینب سے لے کر کراچی کی تین سالہ بچی تک یہ سب اب بھی جاری ہے ہم ان وارداتوں پر بات تو کرتے ہیں لیکن اسباب اور وجوہ پر بات نہیں ہوتی اس لئے کوئی حل بھی سامنے نہیں آتا۔
آج کے جدید دور میں ترقی یافتہ ممالک میں یہ رجحان نہیں بلکہ ایسے جرائم کے مختلف سماجی اور اخلاقی پہلوؤں پر بات کرنے کے علاوہ وارداتوں کے اسباب پر فکری غور بھی کیا جاتا ہے جس کا اندازہ یوں بھی ہوتا ہے کہ برطانیہ میں سوشل میڈیا کے استعمال پر عمر کی حد لگا دی گئی ہے، ایسا مجموعی تاثر کے باعث کیا گیا کہ معاشرے میں انتشار بڑھتا جا رہا ہے، کئی اور وجوہات کا بھی ذکر ہے لیکن جو کچھ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے، اس کے تمام پہلوؤں پر غور نہیں ہو رہا بلکہ میرے نزدیک حقائق کو نظر انداز کیا جا رہاہے۔
ان وارداتوں پر غور کیا جائے تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں، ایسی وارداتیں کم ہیں جن میں ملزم بالغ مرد ہوتے ہیں عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ ترملزم بلوغت کی طرف بڑھنے والے لڑکے ہیں بلکہ کئی ملزم تو نابالغ پائے گئے۔غور کرنا چاہیے کہ چھوٹی عمر کے ان بچوں میں جنسی ترغیب کیسے ہوئی اور وہ ایک جرم کے ارتکاب کے بعد خوف کے باعث قتل تک کا جرم کر لیتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ آج کے دور میں موبائل کی وبا اس حد تک پھیل چکی ہے کہ ایک ایک فرد کے پاس دو دو موبائل ہوتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پیروں میں ٹوٹی چپل اور کپڑے غربت کا اشتہار ہوتے ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں قریباً دس ہزار روپے مالیت کا موبائل ضرور ہوتا ہے اور یہ جوانی کی طرف بڑھتے لڑکے ہر دم سکرین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
اس مشین کا کنٹرول تو ہمارے پاس نہیں ہے یہ تو دولت کمانے والے مالک ہی پروگرام ترتیب دیتے اور دکھاتے ہیں۔ اس سوشل میڈیا پر ایسی ایپس کی بھرمار ہے جو جنسی رجحان پیدا کرتی اور لڑکوں کے جذبات مشتعل کرتی ہیں اور یہ وہ نفسیاتی عمل ہے جو ان نوجوانوں کو جرم کی طرف مائل کرتا ہے اس سلسلے میں درجہ بندی بھی کی جا سکتی ہے جو امیر اور غریب کے درمیان توازن کی ہے، امیر نوجوان اپنے اندرپیدا ہونے والے مجرمانہ جذبات کو اپنے انداز سے حل کرتے ہیں جبکہ نچلے طبقے والے براہ راست جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور یہی سلسلہ جنسی زیادتی اور قتل کی وارداتوں میں اضافے کا بھی سبب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت بھی اپنے ماہرین سے مشاورت کرکے سوشل میڈیا کی اس وباء کا بھی سدباب کرے جس پر عام جنسی اختلاط کے مناظر کی ویڈیوز ہوتی ہیں۔ ان وجوہات پر غور اور عملی طور پر سدباب کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں معاشرتی اقدار کی تباہی کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ ہمارا بچپن بہتر معاشرے میں گزرا اس لئے تب غیر اخلاقی حرکات بھی کم تھیں، اب صورت حال مختلف ہے ان وجوہ کو بھی زیر غور لانا ہوگا۔آبادی میں تیز اضافہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

