پیرس (رائٹرز/اے ایف پی/پولیٹیکو) یورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن نے اپنے خلاف دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں چلنے والے مقدمے کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد فلسطین کی حمایت کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانا ہے۔
پیرس میں عدالت میں پیشی سے قبل پولیٹیکو کو انٹرویو دیتے ہوئے ریما حسن نے کہا کہ یہ صرف ان کا مقدمہ نہیں بلکہ “فلسطینی کاز کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش” ہے۔
ریما حسن پر الزام ہے کہ انہوں نے 26 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک فلسطین نواز اکاؤنٹ کی پوسٹ شیئر کی، جس میں 1972 میں اسرائیل کے لوڈ ایئرپورٹ پر حملے میں ملوث جاپانی ریڈ آرمی کے رکن کوزو اوکاموتو سے منسوب ایک قول شامل تھا۔ فرانسیسی استغاثہ کا مؤقف ہے کہ اس پوسٹ کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت کی گئی، جو فرانسیسی قانون کے تحت جرم ہے۔
ریما حسن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف مزاحمت کے فلسفے پر مبنی ایک اقتباس شیئر کرنا تھا، نہ کہ کسی دہشت گرد حملے کی تعریف یا حمایت کرنا۔
فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والی ریما حسن گزشتہ دو برسوں کے دوران فرانس میں فلسطینیوں کے حق میں اپنے مؤقف کے باعث نمایاں سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئی ہیں۔ ان کے ناقدین ان پر حماس کے مؤقف کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں فلسطینی حقوق کی توانا آواز قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ سال ریما حسن کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی مہمات اور بیانات کی مسلسل حمایت کرتی رہی ہیں۔
پیرس پراسیکیوٹر آفس کے مطابق اسرائیل۔فلسطین تنازع سے متعلق ریما حسن کے بیانات پر اب تک 16 قانونی شکایات درج کی جا چکی ہیں، جن میں سے صرف ایک مقدمہ باقاعدہ عدالتی کارروائی تک پہنچا ہے، دو شکایات زیرِ تفتیش ہیں جبکہ 13 میں فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
ریما حسن نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہونے کے باعث انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے، تاہم استغاثہ نے موقف اپنایا کہ سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آنے کے فوراً بعد کارروائی کیے جانے کے باعث یہ استثنیٰ اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا۔
ریما حسن کے حق میں 210 سے زائد سیاست دانوں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مقدمے کو اظہارِ رائے کی آزادی محدود کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانسیسی قانون کے تحت دہشت گردی کی حمایت ثابت ہونے کی صورت میں ریما حسن کو سات سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے اور قانون کے مطابق ریما حسن پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔

