اسرائیل میں ریکارڈ ووٹنگ، نیتن یاہو کی پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست مسترد

تل ابیب (الجزیرہ) اسرائیل میں انتخابات کے دوران ریکارڈ ووٹنگ کے پیش نظر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ووٹنگ کے لیے مقررہ وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کی درخواست دی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی طویل قطاروں کے باعث متعدد افراد کو ووٹ ڈالنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

تاہم مرکزی انتخابی کمیٹی نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ووٹنگ کی شرح غیر معمولی طور پر زیادہ ہے اور موجودہ حالات میں پولنگ کا وقت بڑھانے کی ضرورت نہیں۔

انتخابی کمیٹی کے مطابق شام 4 بجے تک 55.7 فیصد اہل ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے تھے، جو 2022ء کے انتخابات میں اسی وقت ریکارڈ کی گئی 47.5 فیصد شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ شام 6 بجے تک ووٹنگ کی شرح بڑھ کر 66.7 فیصد ہوگئی، جو 1973ء کے بعد اس مرحلے پر ریکارڈ کی گئی بلند ترین شرح ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ رات 10 بجے تک پولنگ اسٹیشن پہنچنے والے ووٹروں کو قطار میں موجود ہونے کی صورت میں مقررہ وقت کے بعد بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔اسرائیل کے ان انتخابات کو نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل اور ان کی حکومت کی بقا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔